مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 398 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 398

مضامین بشیر ۳۹۸ تعلیم اور تنویر اور تربیت ہیں۔تعلیم کی غرض وغایت ہرگز پوری نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ معتین علم سکھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کے دماغوں میں روشنی پیدا کرنے اور پھر ان کی معلومات کے مطابق عملی مشق کرانے کا انتظام نہ ہو۔بچوں کے دماغوں میں محض خشک معلومات کا ذخیرہ ٹھونس دینا چنداں فائدہ مند نہیں ہوتا جب تک کہ ان کے دماغوں کی کھڑکیوں کو کھول کر علم کے میدان کے ساتھ بنیادی لگاؤ نہ پیدا کیا جائے۔اور پھر عملی مشق کے ذریعہ بچوں کی قوت عملیہ کو ایک خاص ڈھانچے میں نہ ڈھال دیا جائے۔(۲) اب ظاہر ہے کہ تعلیم کا جو وسیع مفہوم اوپر بیان کیا گیا ہے وہ کبھی حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہر قوم اپنی قومی اور ملکی ضروریات کے پیش نظر اپنے بچوں کی تعلیم کا پروگرام مرتب نہ کرے۔انگریز نے اپنے زمانہ میں جو غرض و غایت تعلیم کی سبھی اور جو مقاصد اپنے مصالح کے ماتحت ضروری خیال کئے۔ان کے پیش نظر نصاب بنایا اور درسگاہیں جاری کیں۔مگر انگریز کے چلے جانے اور آزادی کے حصول اور پاکستان کے قیام کے بعد انگریز کی طے کی ہوئی پالیسی اور انگریز کا جاری کیا ہوا نصاب ہماری ضرورتوں کو ہرگز پورا نہیں کر سکتا۔بلکہ یقیناً وہ بعض پہلوؤں میں ہمارے مقاصد کے خلاف اور متضاد واقع ہوا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ کلی طور پر بدل دینے کے قابل ہے۔لاریب اس میں کئی باتیں مفید بھی ہیں جو بڑے لمبے تجربہ کے بعد حاصل کی گئی ہیں۔پس دانشمندانہ پالیسی یہ ہوگی کہ تدریج اور آہستگی کے ساتھ قدم اٹھایا جائے۔اور سابقہ نصاب کے غیر مفید حصہ کو ترک کر کے ایسے مفید اضافوں کے ساتھ جو ہمارے موجودہ قومی مصالح کے لئے ضروری ہیں نیا نصاب مرتب کیا جائے۔(۳) ہماری کمیٹی نمبر اول پر یہ تجویز پیش کرنا چاہتی ہے کہ جدید نصاب میں دینیات اور اخلاقیات کا مضمون لازماً شامل ہونا چاہیے۔کیونکہ یہ بات نہایت ضروری ہے کہ بچپن میں ہی ایمان واخلاق کا بیج بو دیا جائے تاکہ قوم کے نو نہال بڑے ہو کر اپنے اخلاق اور دین کی بنیاد اسلام کی دی ہوئی تعلیم پر قائم کر سکیں۔لیکن ہماری کمیٹی اس مشکل کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی کہ پاکستان میں مختلف اسلامی فرقوں کے لوگ پائے جاتے ہیں۔اور صحیح طور پر یا غلط طور پر ہر فرقہ کی طرف سے مطالبہ ہوگا کہ اس فرقہ کی مخصوص تشریح کے مطابق اسلامی تعلیم دی جائے۔اور اس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ دینیات کا نصاب خود ایک جھگڑے کی بنیاد بن جائے۔پس جہاں ہم دینیات کی تعلیم کو ضروری خیال کرتے ہیں وہاں ہمارا یہ بھی مشورہ ہے کہ اس قسم کے اختلاف کے سد باب کے لئے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے فی الحال پرائمری اور مڈل میں دینی تعلیم ایک ایسی اقل اصولی تعلیم تک محدود