مضامین بشیر (جلد 2) — Page 397
۳۹۷ مضامین بشیر نصاب کمیٹی حکومت مغربی پنجاب کو جماعت احمدیہ کی طرف سے مشورہ مڈل تک کے نصاب میں کونسی اصلاحیں ضروری ہیں کچھ عرصہ ہوا حکومت مغربی پنجاب نے مڈل تک کے نصاب کی اصلاح کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی تھی اور کمیٹی مذکور نے اس معاملہ میں جماعت احمدیہ سے بھی مشورہ طلب کیا تھا اس مشورہ کے لئے جو کمیٹی صدر انجمن احمدیہ نے مقرر کی۔اس کے سیکرٹری ابوالفتح مولوی محمد عبد القادر صاحب ایم۔اے ریٹائرڈ پروفیسر کلکتہ یونیورسٹی تھے اور خاکسار مرزا بشیر احمد اس کا صدر تھا۔اور پر وفیسر قاضی محمد اسلم صاحب اور ناظر صاحب تعلیم و تربیت مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور عزیز مرزا ناصر احمد صاحب اور مولوی ابوالعطاء صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب اس کمیٹی کے ممبر تھے۔ہماری اس کمیٹی نے بعد غور وخوض جو مشورہ حکومت کی مقرر کردہ نصاب کمیٹی کو دیا۔وہ احباب کی اطلاع کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔تمہیدی نوٹ ) اصل مشورہ کرنے سے قبل میں یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری کمیٹی اپنے مشورہ کو صرف اصولی حد تک محدود رکھے گی۔اور نصاب کی تفصیلات میں جانے یا کتب تجویز کرنے کے متعلق کوئی مشورہ پیش نہیں کیا جائے گا۔اور دراصل اس معاملہ میں زیادہ اہم سوال اصول ہی کا ہے۔اور تفصیلات کو بغیر کسی خطرہ کے زیادہ عملی تجربہ رکھنے والے واقف کاروں پر چھوڑا جا سکتا ہے۔بہر حال جو اصولی مشورہ ہماری کمیٹی امور مستفسرہ کے متعلق دینا چاہتی ہے۔درج ذیل کے چند مختصر فقرات میں درج کیا جاتا ہے۔(۱) جہاں تک تعلیم کی غرض وغایت کا سوال ہے، وہ محض تعلیم کے لفظ سے پوری طرح ظاہر نہیں کی جاسکتی کیونکہ تعلیم کے لغوی معنے صرف علم دینے کے ہیں۔مگر اصطلاحی طور پر تعلیم کا مفہوم اس لغوی مفہوم کی نسبت بہت زیادہ وسیع اور بہت زیادہ گہرا ہے۔دراصل اگر تعلیم کے صحیح مفہوم کو مختصر لفظوں میں ہی ادا کرنا ہو تو صرف لفظ تعلیم کی بجائے تین الفاظ کا مجموعہ زیادہ مناسب ہو گا اور یہ تین الفاظ