مضامین بشیر (جلد 2) — Page 382
مضامین بشیر ۳۸۲ پھسکے کی عمارت کے متعلق دوست مشورہ دیں آجکل ربوہ یعنی مرکز پاکستان میں مکانوں کی تعمیر کا سوال زیر غور ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ جو مکان تعمیر کئے جائیں وہ کم سے کم خرچ پر تعمیر ہوں اور اس علاقہ کی گرم آب و ہوا کے پیش نظر ٹھنڈے بھی اور حفاظت وغیرہ کے نقطۂ نظر سے حتی الوسع مضبوط اور دیر پا بھی ہوں۔اس تعلق میں مجھے ان ایام میں ایک یورپین رسالہ کے مطالعہ کا اتفاق ہوا جس میں مضمون نگار نے پھسکے کی کچی عمارت کی تفصیل دے کر اس کی سفارش کی ہے۔پھسکے کی عمارت تو ہندوستان میں بھی کثرت کے ساتھ رائج ہے اور پٹھان اور اوڈ وغیرہ قو میں ، لوگ اس کا کافی تجربہ رکھتے ہیں مگر مضمون نگار نے اس میں دو ایسی باتیں زائد لکھی ہیں جو پہلے میرے تجربہ میں نہیں آئیں ، ایک تو یہ کہ پھسکے کے لئے مٹی تیار کرتے ہوئے اس میں توڑی یا کوئی اور کٹا ہوا گھاس بھی شامل کر لیا جائے (جیسا کہ عموماً پکا گارا بناتے ہوئے شامل کیا جاتا ہے ) اور دوسرے یہ کہ انڈے کے سائز کے پتھر کے ٹکڑے یا بجری بقدر ہیں یا پچیس فیصدی ملا دی جائے۔مضمون نگار لکھتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی تیار شدہ مٹی سے جو پھسکے کی دیوار بنے گی وہ مضبوط بھی ہوگی اور دیر پا بھی اور ستی بھی اور اس طریق پر تیار شدہ کمرہ ٹھنڈا بھی کافی رہے گا۔سوجن دوستوں کو اس قسم کی عمارت کا تجربہ ہو یا اس کے متعلق ویسے ہی کوئی مشورہ دے سکیں تو وہ مجھے مطلع فرمائیں۔میں نے سنا ہے کہ جن ایام میں ضلع حصہ میں قحط پڑا تھا ان دنوں گورنمنٹ نے وہاں اس قسم سے ملتے جلتے بعض مکانات تیار کر وائے تھے۔( مطبوعه الفضل ۱۶ /اکتوبر ۱۹۴۸ء)