مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 342 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 342

مضامین بشیر ۳۴۲ پناہ گزینوں کی علاقہ وار آبادی کے متعلق جماعت احمدیہ کا نظریہ حضرت امیر المومنین امام جماعت احمدیہ کی رائے میں نے ایک خط کے ذریعہ حضرت امیرالمومنین خلیفتہ لمسیح الثانی امام جماعت احمدیہ سے دریافت کیا تھا کہ پناہ گزینوں کی علاقہ وار آبادی کے متعلق حضور کا کیا خیال ہے۔اس کے جواب میں حضور نے مندرجہ ذیل الفاظ نوٹ فرما کر بھیجے ہیں جو جماعتی رائے کے طور پر الفضل میں شائع کرائے جاتے ہیں۔” میرے نزدیک اب بھی علاقہ وار آبادی کا انتظام ہونا چاہئے مگر طوعی طور پر ہو۔اور پہلے جگہ خالی ہو۔اور پھر جگہ بدلی جائے اور آہستگی سے کام ہو“ اس ارشاد کا مطلب واضح ہے اور وہ یہ کہ علاقہ وار آبادی کا انتظام اب بھی ہونا مناسب ہے مگر اس کے لئے کسی پناہ گزین کو مجبور نہ کیا جائے۔بلکہ جو پناہ گزین اس کے لئے بخوشی تیار ہوں صرف ان کی جگہ بدلی جائے۔نیز یہ کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ علاقہ وار تقسیم کے خیال سے کسی پناہ گزین کو اس کی موجودہ جگہ سے تو اٹھا دیا جائے لیکن ابھی اس کے واسطے دوسری جگہ کا پختہ انتظام موجود نہ ہو۔بلکہ پہلے یہ تسلی کر لی جائے کہ جس جگہ کسی پناہ گزین نے جانا ہے وہ خالی بھی ہے یا نہیں یا آسانی کے ساتھ خالی بھی کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اگر یہ جگہ خالی ہو یا آسانی کے ساتھ خالی کی جاسکتی ہو تو پھر جگہ بدلی جائے ورنہ نہیں۔تیسری بات یہ ہے کہ اس انتقال آبادی کا کام آہستگی اور سہولت کے ساتھ کیا جائے اور ایسا نہ ہو کہ ہنگامی شور شرا با پیدا کر کے پھر ایک قیامت برپا کر دی جائے۔جس کے نتیجہ میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔مطبوعه الفضل ۳۱ راگست ۱۹۴۸ء)