مضامین بشیر (جلد 2) — Page 330
مضامین بشیر ۳۳۰ پڑے ہیں انہیں علاقہ وار آبادی کے اصول پر آباد کیا جائے تا کہ جس حصہ کا علاج ہمارے ہاتھ میں ہے کم از کم وہ تو ہمارے ہاتھ سے ضائع نہ ہو۔اس کے علاوہ یہ انتظام بھی ہونا چاہئے کہ جو آبا دشدہ پناہ گزین آبادی کے دوسرے انتقال کی زحمتوں کو خوشی سے برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔انہیں بھی جہاں تک ممکن ہو علاقہ وار تقسیم کے ماتحت آباد کر دیا جائے۔لیکن بہر حال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جسے جمائے پناہ گزینوں کو ان کی مرضی کے خلاف جبر کر کے ایک علاقہ سے اٹھا کر دوسرے علاقہ میں بھیجا جائے۔موجودہ حالات میں یہی دانشمندی کا اصول ہے۔کہ جو ہو چکا اسے قبول کیا جائے اور پناہ گزینوں کو جبراً دہرے انتقال پر مجبور نہ کیا جائے۔سوائے اس کے کہ وہ خود اپنی خوشی سے اس کے لئے تیار ہوں۔باقی رہا مشرقی پنجاب کے ایم۔ایل۔اے صاحبان کا یہ مطالبہ کہ ان میں سے کسی شخص کو وزارت میں لیا جائے۔سو یہ ایک نہایت واجبی اور نہایت معقول بلکہ نہایت ضروری مطالبہ ہے۔اور تعجب ہے کہ اس وقت تک حکومت نے اس مطالبہ کو پورا کرنے کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔حالانکہ اسے پورا کرنے کے راستہ میں کوئی ایسی مشکل نہیں ہے جسے دُور نہ کیا جاسکے۔ظاہر ہے کہ پناہ گزینوں کی ضروریات اور ان کی مشکلات کو وہی لوگ زیادہ سمجھ سکتے ہیں اور وہی لوگ ان کے دلوں میں زیادہ اعتماد پیدا کر سکتے ہیں جو ان کے ہم وطن ہیں۔اور صدیوں سے ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کے حالات کو جانتے ہیں۔اور فسادات سے قبل اسمبلی میں ان کے نمائندہ بن چکے ہیں۔پچاس ساٹھ لاکھ کی نفری تو ویسے بھی کسی جمہوری اصول کے ماتحت نظر انداز کرنے کے قابل نہیں سمجھی جاسکتی ، چہ جائیکہ اس قسم کی مصیبت کے ایام میں جو دنیا کی تاریخ میں نظیر نہیں رکھتے اس دکھیا آبادی کو بغیر سہارے اور بغیر نمائندگی کے چھوڑ دیا جائے ، بے شک یہ ایم۔ایل۔اے صاحبان قائد اعظم گورنر جنرل کے حکم کے ماتحت مغربی پنجاب کی اسمبلی کے ممبر قرار پاچکے ہیں، مگر ممبری اور چیز ہے اور وزارت اور چیز ہے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ سارے حالات دیکھتے ہوئے ان صاحبان کو وزارت میں حصہ نہ دیا جائے۔یہ ایک نہایت واجبی اور ضروری اور قرین انصاف مطالبہ ہے جو فوراً پورا ہونا چاہئے اور پھر جو شخص مشرقی پنجاب کے ایم۔ایل۔اے صاحبان میں سے وزیر چنا جائے اسی کا حق ہے کہ پناہ گزینوں کا شعبہ اس کے سپرد ہو اور اس کی امداد اور مشورہ کے لئے بعض دوسرے پناہ گزینوں کی ایک مشاورتی کمیٹی بنادی جائے۔اور اس کمیٹی میں مشرقی پنجاب کی ریاستوں کے بعض نمائندے بھی لئے جائیں۔کیونکہ یہ لوگ بھی لاکھوں کی تعداد میں مغربی پنجاب میں پہنچے ہیں۔اور شاید انہیں مشرقی پنجاب کے دوسرے مسلمان مہاجروں کی نسبت بھی زیادہ تکالیف برداشت کرنی پڑی ہیں۔اس کے علاوہ یہ بھی قرین انصاف ہو گا کہ موجودہ غیر معمولی انتشار کے پیش نظر کم از کم آئندہ