مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 22 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 22

مضامین بشیر ۲۲ پس ہمارے دوستوں کو دشمنوں کے ان کمینہ اعتراضوں پر گھبرانا نہیں چاہیئے کیونکہ اگر ایک طرف وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی روشن نشانی ہیں تو دوسری طرف وہ اس عظیم الشان بشارت کے حامل بھی ہیں کہ وہ وقت دور نہیں کہ یہ سب اعتراضات خس و خاشاک کی طرح مٹا دیے جائیں گے اور اعتراض کرنے والوں کو ذلیل ہو کر اپنی غلطی اور نا کامی کا اعتراف کرنا پڑے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- ۱۲ يَخِرُّونَ عَلَى الْمَسَاجِدِ۔رَبَّنَااَ غُفِرُ لَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ۔۔۔یعنی وقت آتا ہے کہ مخالف لوگ بے بس ہو کر اپنی مسجد گا ہوں میں گریں گے اور خدا سے عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں معاف فرما۔ہم واقعی خطا کارتھے۔“ اس کے بعد میں مختصر طور پر ان اعتراضوں کا جواب دیتا ہوں جو حال میں ہی بعض دوستوں کے ذریعہ مجھے پہنچے ہیں اور جو سیرۃ المہدی کی بعض روایتوں پر مبنی ہیں۔سب سے پہلا اعتراض سیرۃ المہدی جلد اوّل کی روایت نمبر ۴۱ پر مبنی ہے۔جس میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بڑی زوجہ جن کے بطن سے مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم اور مرز افضل احمد صاحب پیدا ہوئے اور جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آخری زمانہ میں قطع تعلق فرما لیا تھا۔انہیں بعض اوقات بعض عورتیں پنجابی محاورہ کے مطابق ” پھجہ دی ماں ( یعنی فضل احمد کی والدہ ) کہہ کر پکارا کرتی تھیں اور اعتراض کرنے والے شخص نے گویا یہ طعن کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک لڑکے کا نام بھیجہ تھا۔اس اعتراض کے جواب میں لعنة الله على الكاذبين کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ ہر زبان اور ہر سوسائٹی میں پیار کی وجہ سے بچوں کے نام کو مختصر کر لینے کا رواج پایا جاتا ہے اور یہ طریق ہر ملک اور ہر زمانہ میں نظر آتا ہے مگر اس کی وجہ سے اصل نام نہیں بدل جاتا۔اور نہ کوئی شریف انسان اس قسم کی محبت کی بے تکلفی کو قابل اعتراض خیال کرتا ہے۔مگر ہمارے مخالفوں کی ذہنیت اس قدر پست ہو چکی ہے کہ وہ ایسی معصومانہ باتوں کو بھی اعتراض کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتے۔حالانکہ قریباً ہندوستان کا کوئی ایک گھر بھی ایسا نہیں ہوگا جس میں پیار کی وجہ سے بچوں کے ناموں میں اس قسم کا تصرف نہ کیا جا تا ہو مگر ہمیں دور کی مثال لینے کی ضرورت نہیں۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اس قسم کے تصرف کی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ پیار میں بچوں کے ناموں کو بدل لیا گیا ہے۔مگر افسوس ہے کہ اندھا دشمن اپنی جہالت میں یہ بھی نہیں سوچتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرتے ہوئے کہاں تک جا پہنچتا ہے۔