مضامین بشیر (جلد 2) — Page 310
مضامین بشیر میرے دُعا والے مضمون کا تمہ صحابہ کو بھی اپنی دُعاؤں میں ضرور یا درکھیں چند دن ہوئے ہیں میں نے ” ہماری روزانہ دعاؤں“ کے عنوان کے ماتحت ایک مضمون لکھ کر الفضل میں شائع کرایا تھا۔اور اس مضمون میں منجملہ دیگر امور کے وہ گیارہ عدد دعا ئیں بھی نوٹ کی تھیں جو میرے خیال میں آج کل ہر احمدی کی ورد زبان ہونی چاہئیں۔مگر افسوس ہے کہ میں ان دعاؤں میں ایک اہم دعا کا ذکر کرنا بھول گیا۔یہ دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی درازی عمر اور افاضۂ روحانی سے تعلق رکھتی ہے۔صحابہ کی مقدس جماعت دن بدن کم ہو رہی ہے۔اور گذشتہ سال تو اس میں خصوصیت کے ساتھ زیادہ نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔چنانچہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب ، حضرت مولوی شیر علی صاحب، حضرت حافظ صوفی غلام محمد صاحب مبلغ ماریشس، حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب، محترمہ اہلیہ صاحبہ حافظ حامد علی صاحب ، محترمہ اہلیہ صاحبہ میاں عبداللہ صاحب سنوری و غیر ہم بہت سے قیمتی وجود ہیں جو صحابہ کی مقدس جماعت میں سے ہمیں گزشتہ سال کے دوران میں یا اس زمانہ کے قریب قریب داغ جدائی دے گئے اور میں خیال کرتا ہوں کہ ان میں سے کئی ایک کی وفات میں قادیان کی جدائی کے صدمہ کا بھی دخل تھا۔پس ایک طرف صحابہ کی غیر معمولی برکات اور دوسری طرف ان کی دن بدن گھٹتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی درازی عمر اور ان کے افاضۂ روحانی کی توسیع کے لئے خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مبارک جماعت کو تا دیر سلامت رکھے۔ان کی صحت اور عمر میں برکت دے۔ہمیں ان کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا کرے اور قادیان کی بحالی تک ان کے بیشتر حصہ کو زندہ رکھے۔کیونکہ اس خوشی سے حصہ پانے کے سب سے زیادہ حقدار وہی ہیں۔آمین۔دراصل یہ وہ مقدس گروہ ہے جو اگر اپنے منہ سے کچھ بھی نہ بولے تو پھر بھی ایک زبر دست مقناطیس کی طرح محض اپنے وجود میں ہی روحانی برکات کے انتشار کے لئے کافی ہے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے عظیم الشان مقناطیس سے براہ راست اثر حاصل کیا ہے جس کے روحانی افاضات