مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 263 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 263

۲۶۳ ۵۵ مضامین بشیر نے خود اپنے ہاتھ سے ان لوگوں کو مار دیا۔پیشتر اس کے کہ دو مقابلہ کرنے والے گروہ مقابلہ کرتے۔یا دو فریق جنگ کرتے یا دو جانباز دستے نبرد آزما ہوتے۔اے خدا تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اور تیرے جیسا کوئی ناصر و مددگار نہیں ہے۔تو نے مجھے خود بچایا اور مجھے نجات دی ہے۔ارحم الراحمین خدا اگر تیری رحمت نہ ہوتی تو میں ان بلاؤں سے ہر گز نجات نہ پا سکتا۔اس کے بعد میں بیدار ہوا۔اور میں شکر گزاری اور انابت الی اللہ کے جذبات سے لبریز تھا۔فالحمد لله رب العالمین میں نے اس رویا کی تعبیر یہ کی کہ بغیر انسانی ہاتھوں اور ظاہری اسباب کے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فتح مندی حاصل ہوگی۔تا خدا تعالیٰ مجھ پر اپنی نعمتوں کو مکمل فرمائے اور مجھے اپنے خاص منعم علیہ گروہ میں شامل فرما دے۔اب میں اس رویا کی تعبیر مفصل بیان کرتا ہوں۔تا آپ لوگ علی وجہ البصیرت اسے سمجھ سکیں۔سو یاد رہے کہ سروں کو توڑنے اور زخمی کرنے اور گلوں کو کاٹنے کی تعبیر یہ ہے کہ دشمنوں کے کبر کوتو ڑا جائے گا۔اور ان کی بڑائی خاک میں ملا دی جائے گی اور ان کی طاقت کو گویا تو ڑ دیا جائے گا اور ہاتھوں کے کاٹے جانے کی تعبیر یہ ہے کہ دشمن کی مقابلہ کرنے اور لڑائی کرنے کی طاقت کو زائل کر دیا جائے گا اور انہیں عاجز بنا دیا جائے گا۔اور انہیں مومنوں پر ہاتھ ڈالنے اور ان کے خلاف لڑائی کی تدبیریں کرنے کے ناقابل کر دیا جائے گا۔اور ان سے لڑائی کے ہتھیار چھین لئے جائیں گے اور انہیں مخزول اور مطرود بنا دیا جائے گا اور انہیں بے دست و پا کر دیا جائے گا اور دیا میں پاؤں کا کاٹا جانا یہ معنی رکھتا ہے کہ ان پر حجت قائم ہو جائے گی اور ان پر فرار کا رستہ بند کر دیا جائے گا۔اور ان پر الزام پورے طور پر قائم ہو جائے گا اور وہ گو یا قیدیوں کی طرح ہو جائیں گے۔یہ سب کچھ اس خدا کے ہاتھوں ہو گا جسے تمام طاقتیں حاصل ہیں۔وہ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے جسے چاہتا ہے شکست دیتا ہے جسے چاہتا ہے فتح عطا کرتا ہے اور کوئی شخص اسے عاجز نہیں کر سکتا۔وہ لوگ جنہوں نے خدا کے رسولوں کی تکذیب کی اور اس کے بندوں کو اذیت پہنچائی اور اس کی آیات اور جزا سزا کا انکار کیا وہی لوگ ہیں جو اس کی رحمت سے مایوس ہوں گے۔اور ان کے خیالات ان کی تباہی کا موجب بنیں گے اور ان کا تکبر انہیں ہلاک کر دے گا۔اور ان کے سارے اعمال اور کوششیں اہل حق وصداقت کے مقابلہ پر رائیگاں جائیں گی اور وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہوں گے۔اے ایماندار و! تم خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور خدا کی طرف بلانے والے کی آواز کوقبول کرو اور پیچھے رہو اور صادقوں کے ساتھ مل جاؤ۔دیکھو میں نے آپ لوگوں تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے اور میں تمہارا ادنیٰ خیر خواہ ہوں۔مگر میں ان لوگوں کی حالت پر جو کہ اپنے خیر خواہوں سے دشمنی رکھتے ہیں کیونکر افسوس اور غم کر لوں۔ترجمہ عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام صفحه ۱۱۸ ( مطبوعه الفضل ۱۳/ جون ۱۹۴۸ء)