مضامین بشیر (جلد 2) — Page 262
مضامین بشیر ۲۶۲ کرنے والے فسادی لوگوں کی طرح ہیں۔میں نے دیکھا کہ وہ لوگ حملہ آوروں کی طرح گھوڑے دوڑا رہے ہیں اور مجھے ان کی شکلیں اسی طرح دکھائی دیں۔جس طرح بیداری میں دیکھنے والے دیکھتے ہیں۔میں مسلح اور بہادر سپاہیوں کی طرح جلد جلد ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔گویا میرے گھوڑے کو کوئی آسمانی قائد اس طرح چلا رہا تھا جس طرح حدی خوان اپنے اونٹوں کو چلاتے ہیں اور میں اپنے گھوڑے کے خوبصورتی اور چوکسی کے ساتھ آگے بڑھنے پر تعجب کر رہا تھا۔بعد ازاں جلدی ہی وہ لوگ سرعت سے ہجوم کرتے ہوئے میرے باغ کی طرف بڑھے۔تا میری طاقت اور تد بیر کا مقابلہ کریں۔اور میرے پھلوں کو تباہ اور میرے درختوں کو برباد کر دیں۔اور مفسدوں کی طرح میرے باغ پر ڈا کہ ڈالیں۔ان لوگوں کا اس طرح میرے باغ میں داخل ہو جانا اور اس میں گھس جانا مجھے وحشتناک اور دہشت ناک معلوم ہوا اور میں سخت بے چین ہو گیا اور میرا دل مضطرب ہو گیا اور میرے قیاس نے اندازہ لگایا کہ وہ لوگ میرے پھلوں کو برباد کرنے اور میری شاخوں کو توڑنے پھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔میں اس وقت خیال کرتا تھا کہ یہ وقت مصائب کے ہولناک وقتوں میں سے ایک وقت ہے اور یہ کہ میری زمین دشمنوں کا کیمپ بن رہی ہے۔میں نے اپنے دل میں بے سروسامان لوگوں کی طرح ڈر محسوس کیا اور میں جلدی جلدی ان لوگوں کی طرف باغ میں گیا تا اصلیت کا پتہ لگاؤں۔جب میں اپنے باغ میں داخل ہوا۔اور میں نے ادھر ادھر اپنی نگاہ دوڑا کر دیکھا اور ان لوگوں کی اصل حالت اور مقام کا پتہ لگانا چاہا۔تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے فاصلہ پر میرے باغ کے وسطی (اور بہترین حصہ ) میں مردہ لوگوں کی طرح گرے پڑے ہیں۔تب میری بے چینی دور ہوئی اور مجھے اطمینان قلب حاصل ہوا پھر میں جلد جلد اور خوش خوش ان کی طرف بڑھا۔جب ان کے قریب پہنچ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ گویا ایک دفعہ ہی موت کا شکار ہو کر ذلت اور مقہوریت کی موت مر چکے ہیں۔ان کی کھالیں اتاری جا چکی تھیں اور ان کے سر زخمی کئے گئے تھے اور ان کے گلوں پر چھری پھر چکی تھی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے تھے۔اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر گرے پڑے تھے۔وہ لوگ اس طرح اچانک لقمہ اجل بن گئے کہ گویا ان پر بجلی گری ہے اور وہ بالکل بھسم ہو گئے ہیں۔میں موقع پر پہنچ کر ان لوگوں کے گرنے کی جگہ پر کھڑا ہوا اور میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔اور میں کہہ رہا تھا کہ اے میرے رب تیری راہ میں میری جان قربان ہو۔تو مجھ پر رجوع برحمت ہوا۔اور تو نے اپنے بندے کی ایسی نصرت فرمائی ہے کہ اس کی نظیر کسی جگہ پائی نہیں جاتی۔اے میرے رب تو