مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 257 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 257

۲۵۷ مضامین بشیر ہدایت حاصل ہوگی، گویا عدل کے طریق سے ہٹنے کا یہ بھی ایک امکانی رخنہ تھا جو آنحضرت مے کے مبارک ہاتھوں نے بند کر دیا اس کے علاوہ آنحضرت عیہ ایک اور سنہری ہدایت جاری فرماتے ہیں اور یہ ہدایت جلد بازی کی عادت سے تعلق رکھتی ہے۔بسا اوقات اچھے اچھے سمجھدار آدمی جو اگر ذرا سوچ سمجھ کر کام کریں تو حق کو پالیں۔جلد بازی کی وجہ سے ٹھوکر کھاتے اور عدل و انصاف کے رستہ سے ہٹ جاتے ہیں۔ہمارے پیارے آقا نے بھٹکنے کے اس امکانی خطرہ کو بھی دیکھا اور اس کے متعلق فوراً اپنے مبارک کلام سے ایک شمع ہدایت مہیا فرما دی۔چنانچہ فرماتے ہیں :۔التودة في كل شئے خيراً لا في عمل الآخرة ۵۱ اس حدیث کا آزاد تر جمہ یہ ہے کہ دینی احکام کے پورا کرنے میں تو جلدی کیا کرو کیونکہ وہ خدا کی طرف سے فیصلہ شدہ ہدا یتیں ہیں لیکن دینی باتوں میں جبکہ تم نے خود کوئی فیصلہ کرنا ہو تو خوب سوچ سمجھ کر آہستگی اور بردباری سے قدم اٹھایا کرو تا کہ جلد بازی کی ٹھوکر سے بچ جاؤ اور ٹھنڈے غور و خوض کے نتیجے میں صحیح فیصلہ کر سکو۔سب سے آخر میں سفارش کا سوال آتا ہے سفارش بھی ذراسی غلطی سے بھاری ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہے اور آج کل تو اس نے غلط استعمال کی وجہ سے گویا ایک لعنت کی صورت اختیار کرلی ہے مگر چونکہ یہ ایک لمبا سوال ہے اس لئے میں اس جگہ صرف ایک مختصر اشارہ پر اکتفا کروں گا اس تعلق میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ عدالتی اور قضائی امور میں اسلام نے سفارش کو ممنوع قرار دیا ہے یعنی جب کوئی معاملہ کسی قاضی یا حج یا مجسٹریٹ کے پاس سفارش کرنا جائز نہیں ہے۔چنانچہ آنحضر فرماتے ہیں :۔۵۲ مَنْ حالَت شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٌ مِن حُدُود الله فقد ضاد الله د یعنی جو شخص ایسی سفارش کرتا ہے کہ اس کی سفارش خدا کی مقرر کردہ حدود میں روک ہو جاتی ہے تو وہ خدا کے منشاء کے خلاف چلنے والا ہے اور (پھر فرمایا کہ ) مجھ تک پہنچنے سے پہلے آپس میں ایک دوسرے کو بیشک معاف کر دیا کرو مگر جب مجھ تک ( یعنی قاضی یا حج تک ) معاملہ پہنچ جائے تو پھر سفارش کا حلقہ ختم ہو کر فیصلہ واجب ہو جاتا ہے۔“ لیکن انتظامی معاملات میں جبکہ کسی دوسرے فریق کے حقوق پر اثر نہ پڑتا ہو اور نیک نتائج کی تو قع ہو سفارش ہو سکتی ہے اور اس کے متعلق قرآن شریف یہ اصولی ارشاد فرماتا ہے:۔نَصِيبٌ مِنْهَا ۚ وَمَنْ تَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيْئَةٌ يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِنْهَا ۵۳