مضامین بشیر (جلد 2) — Page 255
۲۵۵ مضامین بشیر پہلو بھی بتا تا ہے جو اس رستہ کے خطرات کی صورت میں ایک حاکم کو پیش آسکتے ہیں۔چنانچہ اس تعلق میں سب سے پہلی تعلیم اسلام یہ دیتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ محبت کے بے جا غلبہ سے متاثر ہوکر انصاف کے رستہ سے ہٹ نہ جایا کریں۔ظاہر ہے کہ محبت ایک ایسی چیز ہے کہ جب وہ انسان کے دل و دماغ پر نا واجب طور پر غالب ہو جائے ، خواہ یہ محبت اپنی جان کی ہو یا رشتہ داروں کی یا دوستوں کی یا کسی اور کی تو وہ ایک ایسا ظلمت کا پردہ بن جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان بسا اوقات ٹھوکر کھاتا اور عدل کے رستہ سے ہٹ جاتا ہے۔پس اسلام ہمیں ہوشیار کرتا ہے کہ بے جا محبت کے غلبہ سے بچو اور اس کی وجہ سے عدل کا رستہ کسی صورت میں بھی نہ چھوڑو۔چنانچہ قرآن شریف فرما تا ہے کہ: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَومِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ د یعنی اے مومنو ہمیشہ عدل و انصاف پر قائم رہو اور خدا کی طرف نگاہ رکھتے ہوئے کچی کچی بات کہو خواہ اس کا اثر تمہاری جانوں کے خلاف پڑتا ہو یا تمہارے ماں باپ کے خلاف پڑتا ہو یا تمہارے دوسرے رشتہ داروں یا دوستوں کے خلاف پڑتا ہو اور کسی صورت میں بھی اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے چل کر عدل وانصاف کے رستہ کو نہ چھوڑو ورنہ یا درکھو کہ خدا تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔اسی طرح غضب اور غصہ کا بے جا غلبہ بھی ایک ظلمت کا پردہ ہے جو انسان کی آنکھوں سے اس کے فرائض کو اوجھل کر دیتا اور عدل کے رستہ سے ہٹا دیتا ہے اس کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے :۔لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ دو یعنی اے مومنو تمہیں کسی قوم کی دشمنی ہرگز ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے معاملہ میں عدل وانصاف کے رستہ سے ہٹ جاؤ بلکہ تمہیں ہر حال میں عدل پر قائم رہنا چاہئے کیونکہ عدل کرنا تقویٰ کے قریب تر ہے اور تقویٰ وہ جو ہر ہے جو تمام نیکیوں کی جڑ ہے کہ پس خدا کا تقویٰ اختیا ر کرو کیونکہ خدا تمہارے اعمال کو جانتا اور دیکھتا ہے۔“ مستقل دشمنی تو الگ رہی اسلام عارضی غصہ کی حالت کے خلاف بھی مسلمانوں کو ہوشیار کرتا ہے چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: لا يحكم الحاكم بين اثنين وهو غضبان د یعنی کسی حاکم کے لئے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان اس حالت میں کوئی فیصلہ کرے