مضامین بشیر (جلد 2) — Page 254
مضامین بشیر ۲۵۴ (چہارم ) عدل کا چوتھا اور سب سے زیادہ معروف پہلوا فراد کے درمیان عدل کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔سوا سلام حکم دیتا ہے کہ جہاں تک حقوق کا سوال ہے۔سب شہریوں کیساتھ بلالحاظ بڑے اور چھوٹے اور بلالحاظ کمزور اور طاقتور کے یکساں انصاف کا معاملہ کیا جائے اور ایسا نہ ہو کہ ایک بڑے شخص کی وجہ سے چھوٹے شخص کا نقصان ہو جائے یا ایک طاقتور شخص کا نقصان ہو جائے۔یا ایک طاقتور شخص کی لحاظ داری میں مزدور شخص کے حقوق نظر انداز کر ردیے جائیں۔ہمارے مقدس آقا ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا کہ: ايها الناس انما اهلك الذين قبلكم انهم كانو اذا سرق فيهم ۴۴ الشريف تركوة واذا سرق فيهم الضيعف اَقَامُوا عَلَيْهِ الحد د یعنی اے مسلمانو! تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا کہ اگر ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو وہ اُسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی چھوٹا چوری کرتا تھا تو وہ اسے سزا دیتے تھے۔اور اس کے بعد آپ نے نہایت جلالی شان کے ساتھ فرمایا کہ خدا کی قسم اگر میری لڑکی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو اس پر بھی شریعت کی مقرر کردہ سزا جاری کی جائے گی۔اسی طرح حضرت ابوبکر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا یہ مشہور قول ہے۔جو خلیفہ بننے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں فرمایا کہ :۔الضعيف فيـكــم قـوى عندى حتى أريح عليه حقه والقوى فيكم ضعيف عنده حتى اخذ الحق منه ۴۵ ود یعنی تم میں سے کمزور آدمی میری نظروں میں قوی ہوگا ، جب تک کہ میں اس کا وہ حق جو کسی اور نے اس سے چھینا ہوا ہوا سے واپس نہ دلا دوں ، اور تم میں سے قوی شخص میرے نزدیک ضعیف ہوگا۔جب تک کہ میں اس سے وہ حق جو اس نے کسی اور سے چھینا ہوا ہوگا واپس نہ لے لوں‘ اللہ اللہ ! ! کیا مبارک تعلیم ہے۔مگر کتنے ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں؟ یہ عدل کے وہ چار موٹے موٹے مثبت پہلو ہیں جن کی طرف قرآن شریف ہر حاکم کو توجہ دلا کر ہوشیار کرتا ہے۔یعنی (۱) کام کے ساتھ عدل (۲) حکومت اور پبلک کے درمیان عدل (۳) قوموں اور پارٹیوں کے درمیان عدل اور (۴) بالآخر افراد کے درمیان عدل۔اور اسلام مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ وہ ان چاروں قسموں کے عدلوں پر قائم ہوتے ہوئے حکومت کے فرائض سرانجام دیں۔مگر اسلام ایک کامل مذہب ہے اور صرف مثبت پہلو کی تعلیم دے کر خاموش نہیں ہو جا تا بلکہ منفی