مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 14

مضامین بشیر ۱۴ تک ان کے لئے ملک کے اندر ایک خاص حفاظتی ماحول جو ان کی قومی زندگی اور قومی ترقی کے لئے ضروری ہو، پیدا نہ کیا جائے ان کا ملک میں آزاد اور خوش اور تسلی یافتہ شہریوں کے طور پر زندگی گذارنا ناممکن ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ گو شروع میں مسلمان پاکستان کی نسبت بہت تھوڑے مطالبہ پر راضی تھے وہ آہستہ آہستہ برادران وطن کے عملی رویہ کی وجہ سے اپنے مطالبہ میں سخت اور پھر سخت سے سخت تر ہوتے گئے اور اس کے ساتھ ان کا مطالبہ بھی دن بدن وسیع ہوتا گیا اور ہمارے ہندو بھائیوں نے اتنا بھی نہ سوچا کہ خود ان کا اپنا یہ حال ہے کہ آج سے سات سال پہلے جو کچھ وہ مسلمانوں کو دینے کے لئے تیار تھے وہ اس سے بہت کم تھا جو وہ آج دینے کو تیار ہیں۔پھر کیا یہ دانشمندی کا طریق نہیں تھا کہ آج سے سات سال پہلے ہی وہ مسلمانوں کا اُس وقت کا مطالبہ مان کر انہیں خوش کر دیتے۔کیونکہ خوش اور تسلی یافتہ ہمسایہ اپنے ہمسایہ کے لئے طاقت اور سہارے کا باعث ہوتا ہے نہ کہ کمزوری اور خطرہ کا موجب۔گو مثال مکمل نہیں مگر مجھے تو یوں نظر آتا ہے کہ پاکستان کا مطالبہ یہ رنگ رکھتا ہے کہ کسی شخص کے دو عضووں کے با ہمی جوڑ میں کوئی نقص پیدا ہو جائے اور اس پر کمز ور عضو برسوں چلا تا رہے کہ اس نقص کا علاج کر کے اسے ٹھیک کر لوتا میری تکلیف دور ہو۔مگر دوسرا عضو اس کی آہ و پکار پر توجہ نہ دے اور اس پر بالآخر کمز ور عضو یہ فیصلہ کرے کہ جب جوڑ ٹھیک ہونے میں نہیں آتا تو چلو اب اسے کاٹ کر الگ ہی کر لیا جائے۔تا جس طرح بعض درختوں کی کٹی ہوئی قلمیں زمین میں گاڑنے سے دوبارہ اگ آتی ہیں ، شاید یہ کٹا ہوا عضو بھی علیحدہ ہو کر پنپنا شروع ہو جائے۔پس میں نے خیال کیا کہ یہ پاکستان کا مطالبہ زیادہ تر خود ہندوؤں کا پیدا کیا ہوا ہے جو انہوں نے عدم فیاضی کی روح میں اپنی کا روباری ذہنیت کے ماتحت آہستہ آہستہ پیدا کر دیا ہے ورنہ اس بات میں کس عظمند کو شبہ ہو سکتا ہے کہ ایک وسیع اور قدرت کی رحمت کے ہاتھوں سے غیر معمولی طور پر برکت یا فتہ ملک جس کی زمین گو یا معدنی اور زرعی اور پھر سب سے بڑھ کر انسانی پیداوار کا سونا اگلتی ہے، ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دیا جائے۔خدا اپنے فعل سے جو تار اور ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن اور ریڈیو اور پھر ریل اور موٹر اور بحری جہاز اور ہوائی جہاز وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے، دنیا کو انتشار سے اتحاد کی طرف لا رہا ہے۔تو پھر یہ کس قدر افسوس اور بدقسمتی کی بات ہوگی کہ ہم آپس کے قابل حل مسائل کی وجہ سے اتحاد سے انتشار کی طرف قدم اٹھا ئیں۔(۳) اس کے بعد میں مسلم لیگ کے مطالبہ پاکستان کی تفصیل میں چلا گیا۔یعنی یہ سوچنے لگا کہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے یہ مطالبہ ہے کیا۔سوظا ہری اور سادہ صورت میں تو پاکستان سے مراد یہ لیا جاتا ہے کہ ہندوستان کے وہ صوبے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ( مثلاً پنجاب و بنگال ) یا جن میں