مضامین بشیر (جلد 2) — Page 233
۲۳۳ مضامین بشیر بلکہ جس قدر رقم کی توفیق ملے وہ بلا توقف ادا کر کے بقیہ کے لئے ساتھ ساتھ کوشش جاری رہنی چاہئے۔اکثر دوستوں کے حالات اب آہستہ آہستہ سدھر رہے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ وہ حالات کی اصلاح کے نتیجہ میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کی طرف سے غافل رہیں۔جو شخص وسعت اور توفیق رکھنے کے باوجود اپنے قرضہ کی رقم ادا نہیں کرتا۔وہ خدا کا حق بھی مارتا ہے اور بندوں کا بھی۔اور دنیا میں ایک ایسا نمونہ قائم کرتا ہے جس کا نتیجہ ظلم اور فتنہ وفساد کے سوا کچھ نہیں۔میں یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وسعت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اپنے گھر یا اپنے کاروبار کو با فراغت چلانے یا ترقی دینے کے بعد اگر کوئی رقم بچے تو وہ قرض خواہ کو دے دی جائے۔جو شخص ایسی حالت کا انتظار کرتا ہے وہ ظالم ہے اور اس کی نیت کبھی بھی بغیر نہیں سمجھی جاسکتی۔پس وسعت سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی آمدن کی صورت پیدا ہو تو اس آمدن میں سے اپنے ضروری اور اقل اخراجات کو نکال کر باقی رقم قرض خواہ کو دے دی جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت کئی بیوہ عورتیں اور کئی یتیم بچے اور کئی بے بس مسکین ایسے ہیں جن کا روپیہ دوسروں کے پاس پھنسا ہوا ہے۔جب تک قرض دینے والوں کو مجبوری تھی۔اس وقت تک ان کا معاملہ خدا کے ساتھ تھا، مگر اب جبکہ اکثر دوستوں کے لئے آہستہ آہستہ فراخی کا راستہ کھل رہا ہے تو اس فراخی میں سے لازماً ان یتیموں اور اُن بیواؤں اور ان مسکینوں کا روپیہ واپس ہونا چاہئے جن کے آمدنی کے ذرائع مفقود ہو چکے ہیں اور قرض کی واپسی کے سوا بظاہر ان کا کوئی سہارا نہیں۔ورنہ وسعت رکھنے والے مقروض لوگ یا درکھیں کہ وہ لوگوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔اور یتیموں اور مسکینوں کا ہی سوال نہیں۔حق بہر حال حق ہے اور ہر حقدار کو ملنا چاہئے خواہ وہ کوئی ہو۔مجھے اپنی زندگی میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ لین دین کا واسطہ پڑا ہے۔مگر میں بڑے دکھ کے ساتھ اس احساس کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں کہ میں نے بہت ہی کم لوگوں کو اس رنگ میں معاملہ کا صاف پایا ہے جو اسلام ہم سے توقع رکھتا ہے۔کاش جس شوق کے ساتھ لوگ روپیہ لیتے ہیں۔اسی شوق کے ساتھ واپس کرنا بھی سیکھیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو۔اور اپنی رضا پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔آمین ( مطبوعه الفضل ۱۹۴۸ء)