مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 232 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 232

مضامین بشیر ۲۳۲ کیا قادیان کے قرضے صرف قادیان میں ہی ادا ہو سکتے ہیں؟ وسعت رکھنے والے مقروض صاحبان کے امتحان کا وقت کچھ عرصہ ہوا میں نے ان نقصانات کی وجہ سے جو گزشتہ فسادات کے نتیجہ میں قادیان کے احمدی کارخانہ داروں اور دیگر دوستوں کو برداشت کرنے پڑے ہیں۔قرض خواہ صاحبان کو تحریک کی تھی کہ وہ قرآنی علم فَنَظِرَةٌ إلى مَيْسَرَةٍ ( یعنی مقروض بھائیوں کو تنگی کے ایام میں مہلت دینی چاہئے ) کے ماتحت اپنی رقوم کے مطالبہ میں نرمی کا پہلو اختیار کریں۔اور اس وقت کا انتظار کریں کہ ان مقروض دوستوں کو کچھ سہولت کی صورت پیدا ہو جائے جو قادیان میں بھاری مالی نقصان اٹھا کر باہر آئے ہیں۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میری اس اخلاقی سفارش سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بعض لوگوں نے اپنے قرض خواہوں کو یہ کہہ کر ٹالنا شروع کر دیا ہے کہ قادیان کا قرضہ قادیان واپس جا کر ہی ادا ہو گا۔یہ ذہنیت نہایت درجہ قابل افسوس اور اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف ہے، اگر ایک طرف اسلام مقروض یعنی قرضہ لینے والے کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور اسے تنگی میں مناسب مہلت دیتا ہے تو وہاں وہ اس سے بھی زیادہ تاکید کے ساتھ قارض یعنی قرضہ دینے والے کے حقوق کی بھی حفاظت فرماتا ہے۔اور ایسے مقروض کو سخت درجہ زیر ملامت قرار دیتا ہے جو وسعت اور گنجائش کے ہوتے ہوئے جھوٹے یا کمزور بہانوں سے اپنے ذمہ کی رقوم کی ادائیگی سے پہلو تہی کرنا چاہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس معاملہ میں اتنا سخت احساس تھا کہ آپ ایسے صحابی کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو مقروض ہونے کی حالت میں فوت ہوتا تھا۔میں اپنے جملہ مقروض دوستوں اور عزیزوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے فرض کو پہچانیں اور اپنے ذمہ کی رقوم کو جلد تر ادا کرنے کی کوشش کریں۔یہ ہرگز درست نہیں کہ قادیان کا قرضہ قادیان میں ہی ادا ہونا چاہئے ، میں نے ایسی بات کبھی نہیں کہی اور نہ کوئی عقلمند اس قسم کی بات کہہ سکتا ہے۔قرضہ بہر حال قرضہ ہے اور جب بھی اور جہاں بھی ادائیگی کی توفیق حاصل ہو فوراً بلا توقف ادا کرنا چاہئے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جب تک ساری رقم موجود نہ ہو قرضہ ادا نہ کیا جائے