مضامین بشیر (جلد 2) — Page 220
مضامین بشیر ۲۲۰ (ب) رسولوں کا نظام جو خدا کی طرف سے ہدایت کا پیغام لے کر آتے ہیں۔اور دنیا کے لئے نیکی کا عملی نمونہ بنتے ہیں۔اور ( ج ) کتب سماوی کے نزول کا نظام جو خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت اور تعلیم پر مشتمل ہوتی ہیں یہ تینوں نظام انسان کے اندرونی لمہ خیر کے لئے سہارے اور تقویت کا باعث ہیں۔اور گویا بطور خارجی المہ خیر کے کام کرتے ہیں اور یہ تینوں نظام مشیت ایزدی کا حصہ ہیں۔( سوم ) آدم کی پیدائش کے ساتھ ہی ابلیس کا حادثہ وقوع میں آ گیا یعنی اس نے خدا کے حکم کے با وجود آدم کے سامنے سجدہ کرنے اور فرمانبردار بننے سے انکار کر دیا۔اس لئے وہ ایک حادثہ کی صورت میں نہ کہ خدائی مشیت اور اپنی پیدائش کی غرض و غایت کے ماتحت عملاً انسان کے لئے امتحان اور ابتلاء کا ذریعہ بن گیا۔اور اب یہ خارجی لمہ شر انسان کے اندرونی لمہ شر کو تقویت دے رہا ہے (چہارم) پر دونوں قسم کے خارجی لمہ خیر اور لمہ شر صرف نیکی یا بدی کی طرف بلانے کی طاقت رکھتے ہیں۔مگر کسی شخص پر جبر نہیں کر سکتے کیونکہ دین کے معاملہ میں جبر کرنا خدائی شریعت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔اب ناظرین خود دیکھ سکتے ہیں کہ اوپر کے نظریہ کے ماتحت قرآن شریف اور حضرت مسیح موعود السلام کے کلام میں کوئی تضاد باقی نہیں رہتا اور نہ ہی خدا کی صفات پر کسی قسم کے اعتراض کا رستہ کھلتا ہے۔اور یہی وہ نتیجہ ہے جس کی طرف میں نے اپنے سابقہ مضمون میں اختصار کے ساتھ اشارہ کیا تھا۔و ا خرد عوانا ان الحمد لله رب العالمين نوٹ : ابلیس اور شیطان کی باہمی نسبت اور تشریح کے متعلق میں اپنے پہلے مضمون میں مختصر بتا چکا ہوں۔اس جگہ اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی میرے موجودہ مضمون سے اس سوال کا براہ راست کوئی تعلق ہے۔نوٹ ثانی میں یہ بات بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جو کچھ اس مضمون کے متعلق میری موجودہ تحقیق تھی۔وہ میں نے اس جگہ لکھ دی ہے اور میری طرف سے اس موضوع پر یہ آخری تحریر ہے کیونکہ مجھے بعض اور مضامین بھی لکھنے ہیں۔جو وقتی لحاظ سے زیادہ اہم اور ضروری ہیں۔البتہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ میرا نظریہ درست نہیں تو میں بلا توقف اپنی رائے بدلنے کو تیار ہوں کیونکہ بہر حال یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور مومن کے دل میں حق کے داخلہ کے لئے ہر وقت رستہ کھلا رہنا چاہئیے۔( مطبوعه الفضل ۱۶ رمئی ۱۹۴۸ء)