مضامین بشیر (جلد 2) — Page 219
۲۱۹ مضامین بشیر (۳) یہ کہ جب آدم کی پیدائش پر فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی آدم کی فرمانبرداری کا حکم ہوا تو فرشتوں نے اپنی فطرت کے مطابق فورا تعمیل کی۔مگر ابلیس نے اپنے اختیار کو کام میں لاتے ہوئے تکبر کیا اور اپنے آپ کو آدم سے بڑا سمجھتے ہوئے آدم کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا (۴) یہ کہ اس انکار پر خدا تعالیٰ ابلیس پر ناراض ہوا اور اُسے رجیم اور ملعون قرار دیا۔(۵) یہ کہ خدا تعالیٰ کی اس ناراضگی پر ابلیس کو ڈر پیدا ہوا کہ خدا اسے ہلاک کر دے گا۔جس پر اس نے خدا سے زندگی کی مہلت مانگی۔(۶) یہ کہ خدا نے اُسے وقت معلوم تک مہلت دی (۷) یہ کہ اس پر ابلیس نے آدم کی دشمنی میں یہ اعلان کیا کہ آئندہ وہ آدم اور اس کی نسل کو گمراہ کرتا رہے گا۔(۸) یہ کہ ابلیس کے اس اعلان پر خدا نے فرمایا کہ تو نے جتنا زور لگا نا ہو لگا لے وہ جو میرے مخلص بندے ہیں وہ بہر حال تیرے حملوں سے محفوظ رہیں گے۔ہاں جو لوگ تیری بد تحریکات کو خود قبول کریں گے وہ ضرور گمراہ ہوں گے۔گے۔(۹) یہ کہ ابلیس کو کسی پر جبر کی طاقت حاصل نہیں ہے۔(۱۰) یہ کہ ابلیس اور اس کے پیچھے لگنے والے لوگ سب بطور سزا کے جہنم میں ڈالے جائیں یہ سب نتائج بالکل واضح ہیں اور ان پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔اور یہ فیصلہ قرآن کا فیصلہ ہے لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ يُؤْمِنُوْنَ 6 خلاصہ کلام یہ ہے کہ : (اول) خیر وشر کے روحانی نظام کی اصل بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان کو اس کے اعمال میں صاحب اختیار بنایا گیا ہے کہ چاہے تو نیکی کا رستہ اختیار کرلے اور چاہے تو نیکی کو چھوڑ کر بدی کے رستہ ا پر پڑ جائے اور اس کے لئے ان دورستوں کا کھلا ہونا لمہ خیر اور لمہ شر کہلاتا ہے۔( دوم ) خدا چونکہ ہدایت کا سرچشمہ ہے۔اور اس کا حقیقی منشاء یہ ہے کہ سب ہدایت پائیں اس لئے اس نے انسان کو صاحب اختیار بنانے کے ساتھ ساتھ اُس کی روحانی حفاظت اور ترقی کے لئے تین قسم کے خارجی نظام بھی جاری کئے ہیں (الف) فرشتوں کا نظام جو انسانوں کو نیکی کی تحریک کرتے ہیں :۔