مضامین بشیر (جلد 2) — Page 214
مضامین بشیر ۲۱۴ نیکی کی طرف ہی اس کو کھینچتے یا اس کی فطرت ہی ایسی واقع ہوتی کہ وہ بجز نیکی کے کاموں کے اور کچھ کر ہی نہ سکتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ نیک کاموں کے کرنے سے اس کو کوئی مرتبہ قرب کامل سکے۔۔۔۔۔۔پس جاننا چاہیئے کہ سالک کو اپنی ابتدائی اور درمیانی حالت میں تمام امیدیں ثواب کی مخالفانہ جذبات سے پیدا ہوتی ہیں۔۔۔۔۔اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ مخالفانہ جذبات جو انسان میں پیدا ہو کر انسان کو بدی کی طرف کھینچتے ہیں در حقیقت وہی انسان کے ثواب کا بھی موجب ہیں کیونکہ جب وہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر ان مخالفانہ جذبات کو چھوڑ دیتا ہے تو عند اللہ بلا شبہ تعریف کے لائق ٹھہر جاتا ہے اور اپنے رب کو راضی کر لیتا ہے لیکن جو شخص انتہائی مقام کو پہنچ گیا ہے اُس میں مخالفانہ جذبات نہیں رہتے گویا اس کا جن مسلمان ۱۳۵ 66 ہو جاتا ہے۔اس عبارت سے اور خصوصاً اس عبارت کے آخری الفاظ سے جن میں بحث کا خلاصہ نکالا گیا ہے، ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک اصل چیز انسان کا صاحب اختیار ہونا ہے کہ چاہے تو نیکی کو اختیار کر لے اور چاہے تو بدی کو اور دراصل یہی وہ چیز ہے جس کا نام لمہ خیر یا لمہ شر رکھا گیا ہے گویا اصل لمہ شر انسان کے اندرونی مخالفانہ جذبات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب اندرونی جذبات ٹھیک ہو جائیں تو بیرونی لمہ شر بریکار ہو جاتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے۔جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان پر حکمت الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ” اس کا جن مسلمان ہو جاتا ہے۔پس گو بے شک ابلیس بھی حضرت آدم کے زمانہ سے ایک مغوی وجود بن کر ایک خارجی لمہ شر کی صورت اختیار کر گیا ہے۔مگر اپنی اصل کے لحاظ سے اس کا مغویا نہ وجود ایسا ہی ہے جیسا کہ مختلف زمانوں میں بعض انسان مغوی وجود ہوتے رہے ہیں۔پس جس طرح مغوی انسان اپنی مغویا نہ حیثیت میں ایک حادثہ تھے اسی طرح ابلیس کے وجود کا مغویا نہ پہلو بھی ایک حادثہ ہے صرف فرق یہ ہے کہ ابلیس کا وجود شروع سے ہی یعنی حضرت آدم کے زمانہ سے ظاہر ہو کر انسان کے اندرونی لمہ شر کے ساتھ لاحق ہو چکا ہے۔اور اس خارجی محرک نے انسان کے اندرونی لمہ شر کو تقویت دے دی ہے مگر اس کے مقابل پر جو خارجی وجود انسان کے اندرونی لمہ خیر کو تقویت دینے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔وہ ابلیس کی نسبت زیادہ طاقتور اور زیادہ وسیع ہیں۔چنانچہ ملائکہ کا وجود ، سلسلہ رُسل کا نظام اور کتب سماوی کا نزول سب ایسے خارجی وجود ہیں جو انسان کے اندرونی لمہ خیر کو مضبوط کرنے اور تقویت پہنچانے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور یہ خارجی لمہ خیر خدا کی ازلی مشیت کا