مضامین بشیر (جلد 2) — Page 208
مضامین بشیر ۲۰۸ مضمون مرز امحمد حیات صاحب تاخیر کے قلم سے ہے۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آئینہ کمالات اسلام والا حوالہ نقل کیا گیا ہے۔پہلے دو مضمون میری نظر میں چنداں وزن نہیں رکھتے۔کیونکہ ان دونوں میں میرے مضمون کی صرف ایک عقلی دلیل کو لے کر فلسفیانہ رنگ میں بحث کرنے پر اکتفا کی گئی ہے اور اصل قرآنی آیت کو نہیں چھوا گیا۔حالانکہ یہ مسئلہ ایسا نہیں کہ محض عقلی دلائل سے حل کیا جا سکے۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر صرف عقلی دلائل تک ہی محدود رہنا ہوتا تو میرے نظریہ کی تائید میں زیادہ مضبوط اور زیادہ روشن دلائل موجود ہیں۔لیکن حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کا اصل اور صحیح حل صرف دو طرح سے ہو سکتا ہے۔اور وہ دو طریق یہ ہیں۔(۱) یہ دیکھا جائے کہ اس بارہ میں قرآن شریف کیا فرما تا ہے۔کیونکہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا اعلیٰ ترین اور محفوظ ترین کلام ہے۔جس کی ہدایت ہر جہت سے مکمل اور ہر غلطی سے پاک ہے۔(۲) یہ دیکھا جائے کہ اس مسئلہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا فرماتے ہیں۔کیونکہ خدا کے راستہ میں سالکوں سے بڑھ کر اس راستہ کے خطرات اور ان خطرات کی نوعیت سے کوئی شخص واقف نہیں ہوسکتا۔اور میں محمد حیات تاثیر کا ممنون ہوں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا معین حوالہ پیش کر کے اس بحث میں سہولت کا دروازہ کھولا ہے۔اصل بحث میں پڑنے سے پہلے میں پھر اس بات کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مجھے تقدیر خیر وشر کے مسئلہ میں کوئی کلام نہیں ، یہ ایک مسلمہ مسئلہ ہے جو ہمارے ایمانیات کی بنیا دوں میں شامل ہے۔اور دراصل اس مسئلہ پر ایمان لانے کے بغیر انسان کی پیدائش کی غرض و غایت پوری ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی سلسلہ رسل اور سلسلہ کتب کی غرض و غایت اس کے بغیر پوری ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے دونوں عالمگیر قانونوں میں یعنی قانون شریعت اور قانون قضا و قدر میں خیر و شر کی تقدیر کو جاری کیا ہے۔یعنی یہ کہ اگر یہ یہ کام کرو گے تو اس کا اس اس صورت میں اچھا نتیجہ نکلے گا۔اور اگر وہ وہ کام کرو گے تو اس کا اس اس صورت میں بُرا نتیجہ نکلے گا۔پس مسئلہ قدر خیر و شر یقیناً حق ہے۔مگر میری موجودہ بحث کے ساتھ اس مسئلہ کو کوئی تعلق نہیں۔دوسری بات میں یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔کہ مجھے اس بات میں بھی ہرگز کلام نہیں کہ انسان اپنے اعمال میں صاحب اختیار ہے۔یعنی خدا کے ازلی قانون نے انسان کو ایسی صورت میں پیدا کیا ہے کہ وہ چاہے تو نیکی اور فرمانبرداری کا طریق اختیار کر لے اور چاہے تو بدی اور نافرمانی کے راستہ پر پڑ جائے۔اور انسان کا صاحب اختیار ہونا اس کی ترقی اور انعامات کا مستحق بننے کے لئے ضروری ہے۔تیسرے مجھے اس بات میں بھی کوئی کلام نہیں کہ ابلیس