مضامین بشیر (جلد 2) — Page 186
مضامین بشیر ۱۸۶ ابھی چند دن ہی کی بات ہے کہ مجھے ایک نوجوان کے متعلق یہ رپورٹ پہنچی کہ اُس نے ایک مجلس میں اس قسم کی بات کہی کہ خدا نے بے شک فرشتے بھی پیدا کئے جو کہا جاتا ہے کہ ہمیں نیکیوں کی تحریک کرتے ہیں۔اور اس نے ہماری ہدایت کے لئے رسول بھی بھیجے اور اس نے شریعت بھی نازل کی مگر اس کے ساتھ یہ بھی تو ہے کہ اس نے ہمیں بہکانے اور گمراہ کرنے کے لئے ابلیس کا وجود بھی ہمارے ساتھ لگا رکھا ہے اور اس نوجوان نے یہ بات کہہ کر پھر اس خیال کا اضافہ کیا کہ اس کی مثال تو یوں ہے کہ ہمارا کوئی بزرگ ہماری بہتری کے لئے ہمیں کوئی نصیحت کرے اور پھر ہمارے پیچھے پیچھے ایک ایسا آدمی بھی اس انگیخت کے ساتھ بھجوا دے کہ تم اس کے پاس جا کر اسے میری نصیحت کے ماننے سے روکو اور کوشش کرو کہ وہ میرا حکم ٹال دے۔یہ خیال اگر نو جوانوں میں پیدا ہونے لگے تو ظاہر ہے کہ ان کا خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق اور پھر اپنے اعمال کے متعلق کیا نظریہ ہو سکتا ہے۔پس یہ ایک محض فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ ہمارے اعمال پر براہ راست اثر ڈالنے والی چیز ہے۔بالآخر میں یہ بات بھی ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں سب سے بڑی روک میرے رستہ۔۔۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ نہایت درجہ دلکش اور لطیف مضمون رہا ہے۔جو حضور نے غالباً آئینہ کمالات اسلام میں درج فرمایا ہے۔جس میں حضور نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی حکیمانہ قدرت کے ماتحت انسان کے لئے دنیا میں ایک لمہ خیر پیدا کیا ہے اور ایک لمہ شر اور ان دونوں بالمقابل طاقتوں کے سامنے رہتے ہوئے ہی انسان نیکی کا رستہ اختیا ر کر کے خدا کے انعامات کا وارث بن سکتا ہے۔اس وقت حضور کا یہ مضمون میرے سامنے نہیں ہے مگر بہر حال حضور نے غالبا آئینہ کمالات اسلام میں لمہ خیر اور لمہ شرکی مفصل بحث درج کی ہے۔اور یہ بحث مجھے ایک عرصہ تک اس مسئلہ میں مذبذب رکھتی رہی۔لیکن بالآخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ کلمہ خیر ( یعنی نیکی کی مس یا نیکی کی کشش ) اور لمہ شر ( یعنی بدی کی مس یا بدی کی کشش ) سے انسان کا نیکی اور بدی کے معاملہ میں صاحب اختیار ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے یعنی چونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی کا رستہ اختیار کرنے کے معاملہ میں مختار بنایا ہے یعنی چاہے تو وہ نیکی کا رستہ اختیار کرے اور چاہے تو بدی کا۔سو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک انسان کا صاحب اختیار ہونا ہی اس کے لئے لمہ خیر اور لمہ شر ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ مضمون اس وقت میرے سامنے نہیں ہے۔علماء کرام کو چاہئے کہ اُسے بھی ضرور دیکھ لیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعی یہی منشاء ہے کہ لمہ شر سے ابلیس مراد ہے اور یہ کہ ابلیس اسی غرض وغایت کے ماتحت پیدا کیا گیا تھا کہ انسانوں کے لئے ابتلاؤں کے سامان مہیا کرے تو پھر جو کچھ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے بہر حال وہی درست اور ٹھیک ہے اور ہمارے دلائل اور استدلالات کا طومار حضور کے ایک قول کے سامنے اُسی طرح بیچ ہے جس طرح ایک