مضامین بشیر (جلد 2) — Page 181
۱۸۱ کیا ابلیس کا مغویا نہ وجو د نظام رُوحانی کا حصہ ہے یا کہ ایک محض بعد کا حادثہ؟ علماء سلسلہ کو تحقیق کی دعوت مضامین بشیر میری عادت ہے کہ بعض خاص خاص مسائل پر سلسلہ کے علماء کو تحقیق کی دعوت دیتا رہتا ہوں۔یہ مسائل ایسے ہوتے ہیں کہ جن میں میرے خیال میں عام لوگوں میں ایک غلط نظریہ قائم ہو چکا ہوتا ہے۔یا کم از کم ان کے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ اس سے قبل میں مختلف اوقات میں مسئلہ رحم اور ایسے پوتے کے ورثہ کے متعلق جس کا باپ اس کے دادے کی زندگی میں فوت ہو چکا ہو۔اور جمع بین الصلاتین کی صورت میں نماز کی ترتیب وغیرہ کے مسائل پر الفضل میں مختصر نوٹ شائع کرا کے علماء کرام کو تحقیق کی دعوت دے چکا ہوں۔اور اس قسم کی دعوت میں میری غرض یہ ہوتی ہے کہ ایک تو مسئلہ زیر بحث صاف ہو جائے اور دوسرے ہمارے علماء میں تحقیق اجتہاد کا مادہ ترقی کرے۔اور وہ محض مقلد بن کر نہ بیٹھے رہیں۔اس وقت جس مسئلہ کی طرف میں اپنے اس مختصر مضمون میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔وہ ابلیس کے وجود سے تعلق رکھتا ہے۔یہ تو اکثر دوست جانتے ہیں اور کم از کم ہمارے سلسلہ کے لٹریچر میں یہ بات کافی واضح طور پر شائع اور متعارف ہے کہ ابلیس اور شیطان ایک دوسرے سے جدا گانہ مفہوم رکھتے ہیں۔یعنی شیطان کا لفظ اپنے مفہوم میں بہت وسیع ہے۔اور ہر گمراہ کرنے والی ہستی یا ضرر رساں وجود یا تکلیف پہنچانے والی چیز پر بولا جاتا ہے ، وہاں ابلیس کا لفظ ایک خاص معین ہستی کے لئے مخصوص ہے۔جو خدا کی پیدا کی کی ہوئی مخفی ہستیوں میں سے ایک ہستی ہے یعنی وہی جس کا ذکر حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر کے ساتھ شامل کر کے قرآن شریف میں بیان ہوا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ گو خود ابلیس بھی ایک شیطان ہے بلکہ وہ دوسرے شیطانوں کا سردار اور سرغنہ ہے مگر ہر شیطان ابلیس نہیں ہے۔گویا منطق کی اصطلاح میں ان دونوں ناموں میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے یعنی یہ کہ ابلیس ضرور شیطان ہے مگر ہر شیطان ابلیس نہیں ہے۔