مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 180 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 180

مضامین بشیر ۱۸۰ ہمارے قیدی بھائی خیریت سے ہیں احباب اُن کی جلد واپسی کے لئے دعا فرمائیں جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے۔اس وقت ہمارے بہت سے دوست قادیان اور اس کے ماحول جب کے رہنے والے جالندھر جیل میں قید ہیں۔اس سے پہلے وہ گورداسپور جیل میں تھے۔لیکن قیدیوں کے تبادلہ کی تجویز ہوئی تو تبادلہ کی سہولت کی غرض سے انہیں جالندھر جیل کی طرف منتقل کر دیا گیا۔جہاں انہیں خدا کے فضل سے گورداسپور کی نسبت زیادہ آرام ہے۔ان دوستوں میں مکرم چوہدری فتح محمد صاحب سیال۔ایم۔ایل۔اے اور مکرم سید ولی اللہ شاہ صاحب اور میجر چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ اور مولوی احمد خان صاحب نسیم اور مولوی عبد العزیز صاحب آف بھامبڑی اور ڈاکٹر سلطان علی صاحب آف ماڑی سیچیاں اور چوہدری علی اکبر صاحب اور بہت سے دوسرے دوست اور عزیز شامل ہیں اور خدا کے فضل سے ڈاک کے ذریعے اُن کی خیریت کی خبر آتی رہتی ہے۔مگر معلوم ہوا ہے کہ بعض دوستوں کی صحت بہت گری ہوئی ہے اور قید خانہ کی زندگی نے ان کی جسمانی حالت پر کافی خراب اثر ڈالا ہے۔احباب ان سب دوستوں کی خیریت اور ان کی جلد واپسی کے لئے خصوصیت سے دعا کرتے رہیں۔کیونکہ یہ وہ دوست ہیں ، جنہوں نے گزشتہ فسادات کے صدمہ سے دو ہرا حصہ پایا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کا اور ان کے اہل وعیال کا حافظ و ناصر ہو۔قیدیوں کے تبادلہ کا سوال دونوں حکومتوں کے زیر غور ہے اور امید کی جاتی ہے کہ انشاء اللہ جلد تبادلہ کا فیصلہ ہو جائے گا۔ہم بھی اس بارہ میں حکومت کے ساتھ خط و کتابت کر رہے ہیں۔یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ جیل خانہ کی دیواروں کے اندر بھی ہمارے دوستوں کی طرف سے مذہبی تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اور حضرت یوسف علیہ السلام کی سنت کو تازہ کرتے ہوئے ہمارے دوست پر امن طریق پر تبلیغ حق کا مقدس فریضہ بجا لاتے رہتے ہیں۔فجز اھم اللہ احسن الجزاء :- ان کے علاوہ ہمارے بعض دوست دوسرے جیل خانوں میں بھی ہیں۔مثلا مولوی برکت علی صاحب لائق لدھیانہ جیل میں محبوس ہیں۔ان دوستوں کے لئے بھی دعا فرمائی جائے۔( مطبوعه الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۴۸ء)