مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 176 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 176

مضامین بشیر " د ہندوستانی انگریزوں کی نقالی میں کوٹ پتلون پہنتا ہے۔کیونکہ گو ظاہری حالت مختلف ہے مگر دونوں صورتوں میں دل کا زہر ایک ہے۔بعض لوگ اس موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی تو فرماتے ہیں کہ كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤمِن اَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا۔۔۔۔یعنی حکمت کی ہر بات مومن کی اپنی ہی کھوئی ہوئی چیز ہوتی ہے۔وہ ایسی بات کو جہاں بھی پاتا ہے لے لیتا ہے۔“ اس سے یہ لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ دوسری قوموں اور دوسرے مذہبوں کی اچھی اچھی باتوں کو لے لے کر اپنا بناتے رہنا چاہئے۔مگر اس حدیث کے یہ معنی بالکل غلط اور اسلام کی بلندشان کے منافی ہیں۔کیونکہ اس معنی کو صحیح تسلیم کرنے کا یہ مطلب ہے کہ گویا اس حدیث نے ہمارے ہاتھ میں ایک کا سہ گدائی دے دیا ہے کہ اس سے اسلام کے نام پر بھیک مانگتے پھرو اور اسلام کی تعلیم میں جو کمی رہ گئی ہے وہ دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کر کے پوری کرتے جاؤ۔ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔اسلام کے متعلق تو یہ از لی تقدیر جاری ہو چکی ہے کہ الإسلامُ يَعْدُو وَلَا يُعلى۔۔۔۔یعنی اسلام دوسرے دینوں کے مقابلہ پر بلند ہونے کے لئے آیا ہے اور ہر گز مغلوب نہیں ہو گا۔“ دراصل اس حدیث کے صحیح معنوں کی کنجی ضالة کے لفظ میں رکھی گئی ہے۔جس کے معنی ہیں ”کھوئی ہوئی چیز “ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم کسی دوسری قوم کی کوئی بظاہر نئی اور اچھی بات دیکھ کر مرعوب نہ ہوا کرو اور یہ خیال نہ کیا کرو کہ تمہیں دنیا میں گویا ایک نئی خوبی اور نئی حکمت کی بات نظر آ گئی ہے۔جسے اسلام میں داخل کر کے اپنا لینا چاہئے بلکہ اگر یہ چیز واقعی اچھی ہے تو تم یقین رکھو کہ وہ تمہاری ہی ضالہ ہے۔یعنی وہ تمہاری ہی کھوئی ہوئی چیز ہے۔جو موجو د تو تھی مگر تمہاری نظروں سے اوجھل تھی اور اگر تم اسلام کی تعلیم میں غور کرو گے تو تمہیں وہ یقیناً اسلام کے اندر ہی مل جائے گی۔کیونکہ اسلام میں تمام سابقہ صداقتوں اور تمام آئندہ ضرورتوں کے علاج کو جمع کر دیا گیا ہے۔پس افسوس ہے کہ ایک ایسی حدیث کو جس میں اسلام کا بے نظیر کمال ظاہر کرنا مقصود تھا۔اسلام کو نعوذ باللہ گدا گر اور بھک منگا بنانے کے لئے استعمال کیا جار ہا ہے۔بہر حال لباس کے بارے میں اسلام نے کوئی خاص تفصیلی ہدایت نہیں دی کہ فلاں لباس پہنو اور فلاں نہ پہنو۔اور ایک عالمگیر مذہب کے لئے یہی حکمت کا طریق تھا کہ اس معاملے میں تفصیلی ہدایت سے اجتناب کیا جاتا۔مگر اس قسم کے معاملات میں اس نے اصولی ہدائتیں ضرور دی ہیں۔اور یہ ہدائتیں وہی ہیں جو میں نے اختصار کے ساتھ اوپر بیان کر دی ہیں۔یعنی (۱) نیت نیک اور صاف ہو (۲) انہاک کا رنگ نہ پیدا کیا جائے (۳) تکلف کی آمیزش نہ ہو اور (۴) کسی دوسری قوم کی نقالی