مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 174 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 174

مضامین بشیر ۱۷۴ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ مبارک کو اصولی رنگ میں عمل پیرا ہوتے ہوئے طبعی سادگی کے طریق پر اختیار کرتا ہے۔ہمیں اس سے کوئی جھگڑا نہیں۔,, ( دوم ) دوسرا اصول جس میں کسی قدر زیادہ وضاحت سے کام لیا گیا ہے۔قرآن شریف نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔کہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيوةِ الدُّنْيَا یعنی آخری زمانے کے مادہ پرست لوگوں کی ایک علامت یہ ہے کہ ان کی زندگی کی ساری جد و جہد دنیا کے کاموں میں خرچ ہو رہی ہو گی۔اور یوں نظر آئے گا کہ ان کی ساری توجہ دنیا کے دھندوں میں ہی غرق ہے۔یہ اصولی ہدایت بھی لباس کے معاملے میں بڑی روشنی پہنچاتی ہے۔ہر شخص اپنے نفس میں غور کر سکتا ہے کہ اس کا کسی لباس کو اختیار کرنا انہماک کی حد تک تو نہیں پہنچا ہوا کہ گویا اس کی ساری جد و جہد اور اس کی زندگی کا سارا شوق اسی قسم کی مادی آسائشوں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔مطلقا لباس کا سوال تو ایک طبعی سوال ہے۔جس میں جسم کی حفاظت اور پردہ کے علاوہ کسی حد تک زینت کا پہلو بھی مقصود ہے لیکن جو شخص اس سوال میں گویا غرق ہو کر اسی کو اپنی توجہ کا مرکز بنالے وہ یقیناً اس آیت کی زد میں آتا ہے کہ ضَلَّ سَخيهم في الحيوةِ الدُّنْيَا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لباس پہنا اور آپ کے خلفاء نے بھی لباس پہنے اور ہمارے زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لباس پہنا اور آپ کے خلفاء نے بھی لباس پہنے۔اور ان سب نے اپنے لباس میں ایک حد تک آرام اور زینت کو بھی مد نظر رکھا مگر کون کہہ سکتا ہے کہ ان بزرگ ہستیوں کو لباس کے معاملہ میں کسی قسم کا انہماک تھا ان کی زندگی تو سرا سرا یسی تھی کہ جیسے کوئی را بگیر گھڑی بھر کے لئے کسی درخت کے سایہ کے نیچے کھڑا ہو جائے اور پھر اپنا رستہ لے لے مگر آج کل کے نوجوان اپنے لباس اور اپنے جسم کی زیب وزینت میں اس طرح غرق نظر آتے ہیں کہ گویا ان کے لئے یہی زندگی کا مقصود و منتہی ہے۔پس گو اسلام لباس کی تفصیلات میں تو دخل نہیں دیتا۔مگر وہ اس قسم کی فنا فی الدنیا ذ ہنیت کو بھی یقیناً ایک لعنتی زندگی قرار دیتا ہے۔(سوم) تیسری اصولی ہدایت ہمیں قرآن شریف کے الفاظ سے ملتی ہے کہ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَفِينَ : یعنی اے رسول تو لوگوں سے یہ کہہ دے کہ میرا طریق زندگی تکلف کے رنگ سے بالکل پاک ہے۔پس لباس کے معاملہ میں تیسری ہدایت یہ کبھی جائے گی کہ اس میں کسی قسم کے تکلف کا رنگ نہ پیدا کیا جائے۔تکلف کی زندگی انسان کی روح اور اس کے ضمیر کے لئے ایک ایسا زنگ ہے جو اسے بالآخر تباہ کر کے چھوڑتا ہے اور فطرت کے طبعی بہاؤ کو مصنوعی رستہ پر ڈال کر انسان کو اس حقیقی خوشی سے محروم کر دیتا ہے۔جو خدا تعالیٰ نے سادگی کی زندگی میں ودیعت کی ہے۔مگر افسوس ہے کہ آج کل دوسری قوموں کی نقالی میں مسلمانوں کی زندگی بھی تکلف کے زہر سے مسموم نظر آتی ہے۔حالانکہ