مضامین بشیر (جلد 2) — Page 153
۱۵۳ مضامین بشیر اب تک مفقودالخبر ہیں۔شہید ہونے والوں میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ایک حرم محترم کے حقیقی ماموں مرزا احمد شفیع صاحب بی۔اے بھی تھے، جو اپنے مکان کی ڈیوڑھی میں پولیس کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بنے۔مگر ظالم دشمنوں نے شہید احمدیوں کی لاشیں تک نہیں لینے دیں۔تا کہ ان کی شناخت اور صحیح تعداد کو مخفی رکھا جا سکے۔اس دن حملہ آوروں نے لاکھوں روپے کا سامان احمدیوں کے گھروں سے لوٹا۔اس قسم کے نازک حالات میں بیرونی محلہ جات کے صدر صاحبان نے جماعت کی حفاظت ( اور خصوصاً عورتوں اور بچوں کی حفاظت) کے خیال سے یہ ضروری سمجھا کہ قادیان کی احمدی آبادی کو بعض مخصوص جگہوں میں سمیٹ کر محفوظ کر لیا جائے۔چنانچہ ایک حصہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں جمع ہو گیا اور دوسرا دارا مسیح اور مدرسہ احمدیہ اور اس کے ملحقہ مکانات میں بند ہو گیا۔ہزار ہا انسانوں کے تھوڑی سی جگہ میں محصور ہو جانے سے صفائی کی حالت نہایت درجہ ابتر ہوگئی اور بعض جگہ پر ایک ایک فٹ تک نجاست جمع ہو گئی۔جسے احمدی خدام نے خود خاکروبوں کی طرح کام کر کے گڑھوں میں دفن کیا۔دوسری طرف آٹے کی مشینوں کے بند ہونے کی وجہ سے جہاں اکثر حصہ آبادی کا گندم ابال ابال کر کھا رہا تھا ، وہاں بیماروں اور دودھ پلانے والی عورتوں اور چھوٹے بچوں کے واسطے آٹا مہیا کرنے کے لئے بہت سے معزز احمدی مردوں کو اپنے ہاتھ سے چکیاں چلانی پڑیں۔یہ دن وہ تھے جب کہ دارا صیح اور مدرسہ احمدیہ میں ٹھہرے ہوئے لوگ ان احمدیوں سے بالکل کٹے ہوئے تھے۔جو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ میں محصور تھے۔کیونکہ درمیانی راستہ بالکل بند اور خطر ناک طور پر مخدوش تھا۔انہی ایام میں نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی کوٹھی دارالسلام اور عزیزم مکرم میاں شریف احمد صاحب کی کوٹھی پر جبر اقبضہ کر لیا گیا۔(۵۰) ۴ را کتوبر ۱۹۴۷ء۔کر فیو اٹھنے کے بعد جب بعض بیرونی محلوں میں رہنے والے احمدی اپنے مکانوں کی دیکھ بھال کے لئے باہر جانے لگے تو بڑے بازار کے اختتام پر جو ریتی چھلہ سے ملتا ہے، عین دن دہاڑے برسر بازار سات احمدیوں کو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ان لوگوں میں میاں سلطان شیر عالم صاحب بی۔اے نائب ناظر ضیافت بھی تھے۔اور جب بعض لوگ شہید ہونے والے احمدیوں کی لاشوں کو اٹھانے کے لئے آگے بڑھے تو وہ بھی گولی کا نشانہ بنا دئے گئے۔(۵۱)۴ /اکتوبر ۱۹۴۷ء۔سٹار ہوزری قادیان کے مال کو لوٹ لیا گیا۔جس میں بیش قیمت اون اور لا تعداد جرا ہیں اور سویٹر اور کمبل وغیرہ شامل تھے اور یہ لوٹ مار مقامی مجسٹریٹ کی آنکھوں کے سامنے ہوئی۔(۵۲) ۵/اکتوبر ۱۹۴۷ء۔بیرونی پناہ گزینوں کا دوسرا پیدل قافلہ قادیان سے روانہ ہوا۔