مضامین بشیر (جلد 2) — Page 152
مضامین بشیر ۱۵۲ گزشتہ فسادات کے تعلق میں چند خاص تاریخیں نمبر۳ گزشتہ فسادات کے تعلق میں جو واقعات قادیان اور اس کے ماحول میں رونما ہوئے۔ان کا ریکارڈ ہمارے پاس محفوظ ہے اور انشاء اللہ اپنے وقت پر شائع کیا جائے گا۔فی الحال دوستوں کی اطلاع کے لئے بعض خاص خاص واقعات کا ذکر مختصر روز نامچہ کی صورت میں درج کیا جاتا ہے۔(۴۷) ۲ را کتوبر ۱۹۴۷ء۔۲ اور ۳ / اکتوبر کی درمیانی شب کو قادیان کی مسجد اقصے ( یعنی منارة اسیح والی جامعہ مسجد ) میں بم پھینکا گیا۔جو ایک قریب کے ہند و مکان کی طرف سے آیا تھا۔اس بم سے مؤذن مسجد کا لڑکا بری طرح زخمی ہوا اور دشمن نے بتا دیا کہ ہم مسلمانوں کے جان و مال اور عزت ہی کے پیاسے نہیں بلکہ ان کی مقدس جگہوں کی بے حرمتی کے واسطے بھی تیار ہیں۔(۲۸)۳ را کتوبر ۱۹۴۷ء۔قادیان میں جمع شدہ پناہ گزینوں میں سے چالیس ہزارانسانوں کا پہلا پیدل قافلہ قادیان سے علی الصبح روانہ ہوا۔ہند و ملٹری ساتھ تھی لیکن ابھی یہ قافلہ قادیان کی حد سے نکلا ہی تھا کہ سکھ جتھوں نے حملہ کر دیا اور چھ میل کے اندر اندر کئی سو مسلمان شہید کر دئے گئے اور بہت سی عورتیں اغوا کر لی گئیں اور جو ر ہا سہا سامان مسلمانوں کے پاس تھا وہ لوٹ لیا گیا۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ کئی دن بعد تک نہر کے ساتھ ساتھ میل ہا میل تک لاشوں کے نشان نظر آتے تھے۔(۴۹) ۳ اکتوبر ۱۹۴۷ء۔یہ دن قادیان کی تاریخ میں خصوصیت سے یادگار رہے گا۔کیونکہ اس دن دشمنوں کے مظالم اپنی انتہا کو پہنچ گئے اور لوٹ ما را در قتل و غارت اور اغوا کے واقعات بھیانک ترین صورت میں ظاہر ہوئے۔سب سے پہلے آٹھ اور نو بجے صبح کے درمیان قادیان کی غربی جانب سے محلہ مسجد فضل پر ہزار ہا سکھوں نے پولیس کی معیت میں حملہ کیا اور قتل وغارت کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے عقب تک پہنچ گئے اور جو عورتیں مسجد کے پچھواڑے میں پناہ لینے کے لئے جمع تھیں، ان میں سے کئی ایک کو اغوا کر لیا گیا اور جب احمدی نوجوان عورتوں کی آہ و پکا رسن کر اُن کی طرف بڑھے تو دونو جوانوں کو خود پولیس نے گولیاں چلا کر مسجد کی دیوار کے ساتھ شہید کر دیا۔عین اس وقت اطلاع ملی کہ قادیان کے محلہ دار الفتوح اور محلہ دارالرحمت پر بھی ہزار ہا سکھوں نے حملہ کر دیا ہے اور ساتھ ہی ان کے حملہ کو کا میاب بنانے کے لئے کرفیو کا اعلان کر دیا ہے۔چنانچہ اس حملہ میں دوسو کے قریب مسلمان (احمدی اور غیر احمدی ، مرد اور عورت، بچے اور بوڑھے ) یا تو شہید ہو گئے اور یا لا پتہ ہو کر