مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 135 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 135

۱۳۵ مضامین بشیر زنابالجبر کے نتیجہ میں پیدا شدہ بچہ اسلام اس کی بھی حفاظت کا حکم دیتا ہے میرے نام ایک خط مغربی پنجاب کے ایک احمدی ڈاکٹر کی طرف سے موصول ہوا تھا جس کا مضمون درج ذیل ہے :۔میں ڈاکٹر ہوں اور یہاں پر سول ہسپتال کا انچارج ہوں۔کل کے ایک واقعہ کا میرے دل پر بہت اثر ہے۔جس کے لئے حضور کی مفید رائے کی ضرورت ہے۔میرے پاس ایک بڑھیا عورت مع اپنی پندرہ سالہ کنواری لڑکی کے آئی۔وہ بڑھیا بہت رو رہی تھی۔میرے دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ ریاست۔۔۔کی باشندہ ہے۔اس کے تمام عزیز خاوند بھائی وغیرہ وہاں مارے گئے ہیں۔اس کی لڑکی کو بھی سکھ لے گئے تھے۔لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ واپس مل گئی۔لڑکی کنواری تھی اب اسے تین ماہ کا حمل ہے اور وہ یہ چاہتی ہے کہ میں اسے کوئی ایسی دوائی دوں جس سے حمل ضائع ہو جائے۔میں نے ہر طرح اس کی تسلی کرنی چاہی لیکن وہ اس پر اصرار کرتی رہی۔ایسے حالات میں حضور کی کیا رائے ہے۔مفصل تحریر فرما ئیں۔اس قسم کے اور بھی مریض آتے ہیں لیکن میں تو انکار ہی کر دیتا ہوں۔“ اس خط کے موصول ہونے پر میں نے ضروری خیال کیا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی رائے دریافت کروں۔سو میں نے حضرت امیر المومنین کی خدمت میں مندرجہ ذیل عریضہ لکھ کر ارسال کیا :- منسلکه خط ارسال خدمت ہے۔اس بارے میں حضور کا کیا ارشاد ہے۔میرے خیال میں تو اسلام ایسے بچوں کی بھی حفاظت فرماتا ہے کہ ماں تو زنا بالجبر کی صورت میں بہر حال بے گناہ ہی ہے۔اگر وہ نیک نیتی کے ساتھ اس بچے کی ولادت کا انتظار کرے اور بچے کی ولادت کے بعد اس کی اچھی تربیت کرے۔اور بچہ سچا مسلمان ہو جائے تو غالباً ماں ثواب ہی کمائے گی لیکن زیادہ مشکل دنیا کی ہے جو ماں اور بچہ دونوں پر طعن رکھے گی۔اس لئے اگر مصلحتہ ماں کا نام اور پستہ بدل دیا