مضامین بشیر (جلد 2) — Page 127
۱۲۷ مضامین بشیر کے ذریعہ دنیا کو پہنچایا جاتا ہے۔بے شک ہر جماعت کی ترقی اور تنظیم کے لئے کسی نہ کسی مرکز کا ہونا ضروری ہے مگر یہ سوال کہ یہ مرکز اس ملک میں ہو یا کہ اس ملک میں یا اس بستی میں ہو یا کہ اس بستی میں ، ایک محض ثانوی سوال ہے جسے کسی الہی سلسلے کے بنیادی امور سے تعلق نہیں۔جیسا کہ سب دوست جانتے ہیں ، احمدیت کا پیغام تجدید اسلام اور خدمت اسلام کے کام میں مرکوز ہے اور یہ بات خدا کی ائل تقدیروں میں شامل ہے کہ وہ اس زمانے میں احمدیت کے ذریعے اسلام کو دوبارہ تر و تازہ کر کے دنیا میں غالب کرے گا اور ہر دوسرے مذہب پر اس کے غلبے کو ایسا نمایاں کر دے گا کہ کسی شخص کے لئے شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہے گی مگر یہ بات کہ اس غلبے کے حصول کے لئے کون سا مرکز مقدر ہے یا یہ کہ اس کے لئے ایک ہی مرکز مقدر ہے یا کہ یکے بعد دیگرے کئی مرکز مقدر ہیں۔یہ ایک بالکل دوسری بات ہے ، جسے سلسلے کے بنیادی اصول سے کوئی تعلق نہیں۔ہم خواہ قادیان کے مرکز میں رہ کر خدمت اسلام کا فرض بجالاتے ہیں یا کہ مغربی پنجاب کے کسی مقام پر مرکز بنا کر اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں یا کہ ہندوستان سے بھی باہر مشرق وسطی میں کسی جگہ اپنا مرکز بنا کر سلسلے کے بنیادی مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ہم بہر حال ان سب صورتوں میں احمدیت کے قیام کی غرض و غائیت کو پورا کرنے والے ہیں اور خواہ قادیان سے باہر ہونا ہمارے لئے جذباتی لحاظ سے کتنا ہی دکھ کا موجب ہواگر احمدیت اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے تو احمدیت بہر حال کچی ہے اور اسے لانے والا خدا کا برگزیدہ مامور ومرسل ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں خدا کی قائم کی ہوئی جماعتوں کے لئے ہجرت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔اکثر انبیاء کو کسی نہ کسی جہت سے ہجرت پیش آئی ہے۔جن میں سے بعض کو تو عارضی ہجرت پیش آئی اور بعض کو دائمی۔لیکن چونکہ ان کا خدا داد مشن با وجود ہزاروں مشکلات کے کامیاب ہوا۔اس لئے کسی عقلمند شخص نے انبیاء یا ان کی جماعتوں کی ہجرت کو قابل اعتراض نہیں سمجھا۔حضرت آدم نے اپنے وطن سے ہجرت کی اور لوگوں کے معروف عقیدے کے مطابق ” جنت سے نکالے گئے مگر چونکہ سچی توبہ کے ساتھ خدا کی طرف جھکے۔اس لئے بالآخر اپنے مشن میں کامیاب ہوئے۔اور خدا نے یہ تقدیر دنیا کے تقدیر نامے میں ہمیشہ کے لئے لکھ دی کہ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ آنَا وَرُسُلِي۔۔یعنی خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے فیصلہ کر دیا ہے کہ شیطانی طاقتوں کے مقابلے پر خدا اور اس کے رسولوں کی طاقتیں لازما غالب ہوا کریں گی۔اسی طرح حضرت نوح کو بھی طوفان کے وقت میں ایک قسم کی ہجرت پیش آئی۔اور حضرت ابراہیم کو بھی اپنا مالوف وطن چھوڑ کر دوسرے وطن میں جانا پڑا۔اور حضرت موسیٰ کے تو گویا مشن کا ہی یہ حصہ تھا کہ وہ اپنی قوم کو ہجرت کرا کے ارض مقدس کی طرف لے آئیں۔اسی