مضامین بشیر (جلد 2) — Page 126
مضامین بشیر ۱۲۶ کیا ہم پھر واپس قادیان جائیں گے؟ یہ سوال یقینا اہم ہے مگر اپنی توجہ کو مرکزی نقطہ پر جمانے کی کوشش کرو کئی دوست مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ کیا ہم پھر قادیان واپس جائیں گے؟ اس کا حقیقی جواب تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے جو سب غیبوں کا مالک اور سب مخفی حقیقوں کا محافظ ہے لیکن بعض باتوں کا علم اس نے خود اپنے بندوں کو دے رکھا ہوتا ہے اور بعض باتوں کے متعلق اس نے ایسے اصول مقرر کر رکھے ہیں جن سے سمجھ دار لوگ قیاس کر کے قریبا قریباً صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔سوال مندرجہ عنوان ایسے سوالوں میں سے ہے جن کے لئے قدرت نے دونوں قسم کے رستے کھولے ہوئے ہیں۔یعنی اول تو اُن مکاشفات کے ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے۔ہمیں خدا کے فضل سے اس بات کا قطعی علم حاصل ہے کہ آیا موجودہ امتحان اور ابتلاء کے بعد جماعت احمدیہ کے لئے قادیان میں واپس جانے اور پہلے کی طرح اسے مرکز بنا کر آباد ہونے کا رستہ کھلا ہے یا نہیں اور دوسرے قیاس اور اجتہاد کے میدان میں بھی ہمارے لئے اس علم کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے کہ ہم اپنے مرکز میں پھر واپس جاسکیں گے یا نہیں۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور کشوف کا تعلق ہے۔میں اس کے متعلق انشاء اللہ ایک علیحدہ مضمون میں دوستوں کے سامنے حقیقت حال رکھنے کی کوشش کروں گا اور بتاؤں گا کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی ازلی تقدیر نے جماعت احمدیہ کے قادیان سے آنے اور پھر دوبارہ قادیان میں واپس جا کر آباد ہونے کو ہمیشہ سے ایک قطعی تقدیر کی صورت میں مقدر کر رکھا ہے۔یعنی ہمارا وہاں سے آنا بھی ایک خدائی تقدیر تھی اور وہاں واپس جانا بھی اہل خدائی تقدیر ہے۔جسے دنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی۔کیونکہ قضائے آسمان علت ایں بہر حالت شود پیدا اب رہا قیاس اور اجتہاد کا سوال۔سو اس میدان میں قدم رکھنے سے پیشتر سب سے پہلے اس اصولی بات کا سمجھ لینا ضروری ہے کہ خدائی سلسلوں میں مرکز کا سوال ایک محض ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔اصل چیز جو ہر الہی سلسلے کی بنیاد ہوتی ہے، وہ اس پیغام سے تعلق رکھتی ہے جو ایک مامورمن اللہ