مضامین بشیر (جلد 2) — Page 122
مضامین بشیر ۱۲۲ لوگوں کا یہ حال ہے کہ اب جبکہ خدا کے فضل سے جانیں اور عزتیں محفوظ ہو چکی ہیں تو ان لوگوں کو اپنا مالی نقصان گویا ایک دیو بن کر نظر آنے لگا ہے اور اس کی وجہ سے بعض لوگوں کی طبیعت میں اعتراض بھی پیدا ہو رہا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر جانوں پر سامان کو مقدم کیا جاتا اور اگر جیسا کہ لازمی ہے اس کے نتیجہ میں جانوں کا زیادہ نقصان ہو جاتا ( اور عورتوں کی جانوں کے نقصان کے ساتھ ان کے ناموس کا نقصان بھی لازم و ملزوم تھا۔) تو پھر یہی لوگ یہ اعتراض کرتے اور اس صورت میں یہ اعتراض یقیناً جائز ہوتا کہ دیکھو منتظمین نے سامان کی خاطر عورتوں کی جانوں اور ناموس کو برباد کرا دیا ہے۔حق یہ ہے کہ سچا مومن بڑے نقصان سے بیچ کر چھوٹے نقصان کے با وجو دشکر گزار ہوتا ہے اور پھر وہ خدا کے اس وعدہ کو پاتا ہے کہ بہن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ۔مگر روحانی لحاظ سے بیمار لوگ یعنی لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُم۔۔وہ ہر حالت کو اعتراض اور ناشکری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔اگر وہ بڑے نقصان سے بچ جائیں تو کہتے ہیں کہ چھوٹا نقصان بھی کیوں ہوا؟ اور اگر چھوٹے نقصان سے بچ کر بڑے نقصان میں مبتلا ہو جائیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو جماعت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ایسے لوگوں کا علاج صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔بالآخر میں دوستوں سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جماعت کے لئے یہ ایک بہت بھاری امتحان کا وقت ہے۔اور ضروری تھا کہ یہ امتحان آتا، کیونکہ اس کے بغیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کئی پیشگوئیاں غلط جاتیں مثلاً یہ کہ (۱) داغِ ہجرت یا مثلاً یہ کہ (۲) يَاتِی عَلَيْكَ زَمَنْ كَمِثْلِ زَمَنِ مُؤسى۔یا مثلاً یہ کہ (۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رویا میں یہ دیکھنا کہ آپ کے باغ پر ایک کر یہہ المنظر وحشی گروہ نے حملہ کیا ہے۔یا مثلاً یہ کہ (۴) آپ کا الہام مصالح العرب ـ مسير العرب جس کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے لیکن بعض رؤیا نبی کے زمانہ میں پورا ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعہ سے پورے ہوتے ہیں یا مثلا (۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَ هُمُ لَا يُفْتَنُونَ وغیرہ وغیرہ۔پس ہماری یہ تکالیف بھی دراصل احمدیت کی صداقت کی ایک بھاری نشانی ہیں مگر بد قسمت ہیں وہ لوگ جو اس وقت تک تو خوشی خوشی سلسلہ کے ساتھ چلے جب تک کہ جماعت گویا پھولوں کی سیج پر چل رہی تھی مگر جو نہی کہ اسے کچھ وقت کے لئے خاردار رستہ پر چلنا پڑا تو وہ گھبرا کر اور بڑ بڑاتے ہوئے اِدھر اُدھر سرک جانے کی راہ دیکھنے لگے اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے خوشحالی میں بھی وفاداری دکھائی اور تنگی اور مصیبت کے وقت میں بھی وفا دار ر ہے۔اُولئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ وَأَوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُون - یہ وقت انشاء اللہ جلد گزرجائے گا۔۱۵ -