مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 112 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 112

مضامین بشیر ١١٢ لئے بھی اس بات میں تامل نہیں کہ اس کے ظلم سے نہ صرف دلی بیزاری کا اعلان کریں بلکہ جہاں تک ہماری طاقت ہو اس کے ظلم کے ہاتھ کو روکیں۔ہمارے امام نے موجودہ فسادات کے شروع میں ہی اپنی جماعت میں اعلان کر دیا تھا کہ اگر تم اپنے سامنے کوئی ظلم ہوتا دیکھو۔تو قطع نظر اس کے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون تم فورا ایک طرف مظلوم کی امداد کو پہنچو۔اور دوسری طرف ظالم کے ہاتھ کو روکو، خواہ اس کوشش میں تمہیں اپنی جان تک سے ہاتھ دھونا پڑیں۔بس اس اصولی بات کے سوا میں اس معاملہ میں اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ مجھے ان واقعات کا علم نہیں۔لیکن اگر وہ درست ہیں تو ضرور انتہائی افسوس اور انتہائی نفرت کے قابل ہے۔آخر میں میں پھر اپنے سکھ ہم وطنوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ وقتی غصہ کو دبا کر اور عارضی جوشوں کو ٹھنڈا کر کے اپنے مستقل مفاد کے لحاظ سے پنجاب کی مجوزہ تقسیم کے متعلق غور کریں اور دیکھیں کہ یہ سکیم ان کے لئے کہاں تک مفید اور کہاں تک نقصان دہ ہے۔یہ ایک فرد یا ایک خاندان یا ایک قبیلہ کا سوال نہیں بلکہ ایک پوری قوم کا سوال ہے۔اور پھر یہ ایک دن یا ایک مہینہ یا ایک سال یا دس ہیں سال کا سوال نہیں بلکہ ہمیشگی کا سوال ہے۔پس سوچو اور سمجھو اور پھر سوچو اور سمجھو اور پھر اس طریق کو اختیار کرو جو ایک طرف حق و انصاف پر مبنی ہو۔اور دوسری طرف آپ کی قوم کے لئے دائمی مضبوطی اور ترقی کا رستہ کھول دے۔اور پھر آپ لوگ ایک خدا کو ماننے والے ہیں۔اور اسے علیم وقد مر جانتے ہیں۔اس تاریکی کے زمانہ میں دلی کرب و درد کے ساتھ خدا سے دعا ئیں بھی کریں کہ قبل اس کہ آخری فیصلہ کا وقت آئے۔وہ اپنے فضل و رحم سے آپ کے دلوں اور دماغوں میں وہ روشنی بھر دے جو ایک سچے اور بابرکت فیصلہ کے لئے ضروری ہے۔ورنہ ہم تو ہر حال میں خدا کے بندے ہیں اور اس کے ہر فیصلہ پر راضی۔گو جب تک خدا کا فیصلہ جاری نہیں ہوتا۔ہم اس خواہش کے اظہار سے رک نہیں سکتے کہ کاش ہند وستان ایک رہ سکتا اور کاش پنجاب اب بھی ایک رہ سکے۔( مطبوعه الفضل ۲۰ / جون ۱۹۴۷ء)