مضامین بشیر (جلد 2) — Page 103
۱۰۳ مضامین بشیر شیر پنجاب“ کی تنقید کا مخلصانہ جواب سکھ صاحبان آخر کب آنکھیں کھولیں گے؟ میرے مضمون ” خالصہ ہوشیار باش کے جواب میں جو اردو اور انگریزی اور گورمکھی متینوں زبانوں میں شائع ہو کر پنجاب کے طول و عرض میں وسیع طور پر پھیلایا جا چکا ہے۔لاہور کے مشہور سکھ اخبار ” شیر پنجاب نے اپنی اشاعت مورخہ پندرہ جون ۱۹۴۷ء کے صفحہ ۷، صفحہ ۸ پر ایک ایڈیٹوریل میں مفصل جرح کی ہے۔معقول اور باوقار جرح ایک قابل قدر چیز ہے جس سے ملک میں صحیح خیالات کے قائم کرنے اور پھیلانے میں بھاری مدد ملتی ہے۔اور مجھے خوشی ہے کہ ” شیر پنجاب“ کے ایڈیٹر صاحب نے اپنی جرح میں کوئی نازیبا طریق اختیار نہیں کیا۔اور ملک کی موجودہ نا گوار فضا کے باوجود اپنی جرح کو معقولیت اور شائستگی کی حد کے اندر اندر رکھا ہے۔جو یقیناً ایک قابل تعریف کوشش اور آئیندہ کے لئے ایک خوشکن علامت ہے۔بہر حال شیر پنجاب کی جرح کے جواب میں اس جگہ چند اصولی باتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔میرا مضمون ” خالصہ ہوشیار باش موجودہ سکھ سیاست کے تمام پہلوؤں سے تعلق رکھتا تھا اور اس مضمون میں سکھ صاحبان سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اپنی موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کر کے ملک کی بلکہ خود اپنی قوم کی بہتری کے لئے ایک جرات مندانہ قدم اٹھا ئیں اور پنجاب کو تقسیم ہونے سے بچانے کی کوشش کریں۔جس کا سب سے زیادہ نقصان خود سکھوں کو ہی پہنچنے والا ہے۔جو دوحصوں میں بٹ کر اور دونوں حصوں میں ایک تیسرے درجہ کی کمزور اقلیت رہتے ہوئے اپنی موجودہ طاقت کو بہت بری طرح کھو دیں گے۔اس وقت پنجاب کے سکھ ( اور سکھ عملاً پنجاب ہی میں محدود ہیں ) ساڑھے سینتیس لاکھ کی ایک مضبوط اور متحد طاقت ہیں۔جس کا سارا زور ایک نقطہ پر جمع ہے۔مگر پنجاب کی مجوزہ تقسیم کے بعد وہ قریباً دو برابر حصوں میں بٹ جائیں گے۔اور دونوں میں تیسرے درجہ کی اقلیت رہیں گے۔جس کے ایک حصہ میں مسلمانوں کا غلبہ ہو گا۔اور نمبر ۲ پر ہندو ہوں گے۔اور دوسرے حصہ میں ہندوؤں کا غلبہ ہو گا۔اور نمبر ۲ پر مسلمان ہوں گے۔کیا دنیا کی کوئی سمجھدار قوم سیاست کے کسی تسلیم شدہ اصول کے مطابق اس قسم کی حالت پر تسلی پاسکتی ہے۔مانا کہ اس وقت عارضی طور پر ہندؤوں کے