مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1052 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1052

مضامین بشیر ۱۰۵۲ تھے۔تار کے ملتے ہی یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ حضرت صاحب نے بلا تو قف بلایا ہے۔میں جاتا ہوں اور گھر میں قدم تک رکھنے کے بغیر سید ھے اڈہ خانہ کی طرف روانہ ہو گئے۔کیفیت یہ تھی کہ اس وقت نہ جیب میں خرچ تھا اور نہ ساتھ کوئی بستر وغیرہ۔گھر والوں کو اطلاع ملی تو پیچھے سے ایک کمبل تو کسی شخص کے ہاتھ بھجوا دیا مگر خرچ کا انہیں بھی خیال نہیں آیا اور شاید اس وقت گھر میں کوئی رقم ہوگی بھی نہیں۔اڈہ خانہ پہنچ کر حضرت خلیفہ اول نے یکہ لیا اور بٹالہ پہنچ گئے مگر ٹکٹ خریدنے کا کوئی سامان نہیں تھا۔چونکہ گاڑی میں کچھ وقت تھا۔آپ خدا پر توکل کر کے اسٹیشن پر ٹہلنے لگ گئے۔اتنے میں غالباً ایک ہندو رئیس آیا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر عرض کی کہ میری بیوی بہت بیمار ہے آپ تکلیف فرما کر میرے ساتھ تشریف لے چلیں اور اسے میرے گھر پر دیکھ آئیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تو امام کے حکم پر دلی جا رہا ہوں اور گاڑی کا وقت ہونے والا ہے۔میں اس وقت نہیں جا سکتا۔اس نے سمنت عرض کیا کہ میں اپنی بیوی کو یہیں اسٹیشن پر لے آتا ہوں۔آپ اسے یہیں دیکھ لیں۔آپ نے فرمایا اگر یہاں لے آؤ اور گاڑی کا وقت ہوا تو میں دیکھ لوں گا۔چنانچہ وہ اپنی بیوی کو اسٹیشن پر لایا اور آپ نے اسے دیکھ کر نسخہ لکھ دیا اور یہ ہندو رئیس چپکے سے گیا اور دلی کا ٹکٹ لا کر حضرت خلیفہ اول کے حوالہ کیا اور ساتھ ہی معقول نقدی بھی پیش کی۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے رب پر بھروسہ کر کے کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو خدا میرا کام رکنے نہیں دیتا۔بہر حال اسی ایک واقعہ سے (جس کی تفصیل میں ممکن ہے مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو مگر بنیادی حقیقت یقیناً یہی ہے ) آپ کے مقامِ اطاعت اور مقام تو کل کی غیر معمولی شان ظاہر ہے اور اس کے ساتھ ہی خدا کی اس شفقت کی شان بھی عیاں ہے جو اسے اپنے اس اطاعت شعار اور متوکل بندے کے ساتھ تھی۔ایک دفعہ ایک شخص نے اپنی لڑکی کے رشتہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشورہ پوچھا۔حضور نے ایک رشتہ کی سفارش فرمائی لیکن اس شخص کو کسی وجہ سے اس پر تسلی نہ ہوئی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر اس نے عرض کیا کہ حضرت صاحب نے فلاں رشتہ تجویز فرمایا ہے۔مگر میرا دل تسلی نہیں پاتا۔آپ نے بے ساختہ فرمایا۔خدا کی قسم اگر حضرت صاحب میری اکلوتی لڑکی امتہ الحی کے متعلق فرما ئیں کہ اسے فلاں چوہڑے سے بیاہ دو تو مجھے ایک سیکنڈ کے لئے بھی تامل نہ ہو۔ہمارا خدا بھی کتنا نکتہ نواز ہے اس نے حضرت خلیفہ اول کی اس بات کو زمین سے اٹھا کر اپنی رحمت کے دامن میں جگہ دی اور بالآخر آپ کی یہی لڑکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہوا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی بیوی بن کر دار امسیح میں داخل ہو گئی۔بعض اوقات ہمارے خدا کا بھی کیسا نقد