مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1030
مضامین بشیر ۱۰۳۰ علم ہیئت اور علم ریاضی وغیرہ میں یورپ کے شاگردوں نے سپین کے عرب استادوں کی کتابیں پڑھیں اور پھر اپنی زبانوں میں ان کے ترجمے چھاپ کر اپنی قوموں کو علم کی روشنی پہنچائی۔فن تعمیر میں ہسپانیہ کے عربوں نے وہ کمال پیدا کیا کہ جب سپین کی عیسائی اقوام نے آٹھ سو سال کی محکومی کے بعد اپنے مسلمان فاتحین کو اپنے ملک سے نکالا اور اپنے غیظ و غضب کے اندھے جوش میں عربوں کی ہر چیز کو مٹا کر رکھ دیا تو اس وقت بھی ان کے ظلم کا ہاتھ اپنے ملک کی زینت کے خیال سے بعض ان عمارتوں کے خلاف نہ اٹھ سکا جو عربوں نے ان کے ملک میں تعمیر کی تھیں۔چنانچہ غرناطہ کا بے مثل قصر الحمراء اور قرطبہ کی شاندار مسجد اب تک سرزمین سپین میں عربوں کے زمانہ حکومت کی مرثیہ خوانی کر رہی ہیں ، لیکن غالباً سپین میں عرب حکومت کی سب سے بڑی فضیلت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ جب سپین کا فاتح عرب دو سو سال کی طویل لڑائی کے بعد بالآخر سپین سے نکالا گیا تو اس وقت اس کی پسپائی پر رونے والوں میں مسلمانوں کے ساتھ یورپ کی عیسائی اقوام بھی شامل تھیں۔انہوں نے ایک طرف مذہبی تعصب کے جوش میں مسلمانوں کے پین سے نکلنے پر خوشی منائی اور دوسری طرف اس بچی شہادت کے ساتھ اپنی کتابوں کے اوراق بھر دیئے کہ سپین کے مسلمانوں کا اخراج ملک کے لئے ایک بہت بڑی تباہی تھی۔ایک عیسائی مورخ کے یہ الفاظ ہمیشہ میرے کانوں میں گونجتے ہیں کہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ آیا سپین کے عیسائیوں نے مسلمانوں کو اپنے ملک میں سے نکال کر اپنی آزادی کی صورت میں زیادہ انعام پایا یا کہ عربوں کے علوم و فنون کو کھو کر زیادہ نقصان برداشت کیا۔یہ ایک دشمن کی شہادت ہے والفضل ما شهدت به الاعداء۔لیکن اسپین میں اسلامی حکومت کی تباہی کا تلخ ترین پہلو یہ ہے کہ وہاں اسلامی حکومت کے اختتام کے ساتھ ہی اسلام کا بھی خاتمہ ہو گیا۔چنانچہ اب پین کے وسیع جزیرہ نما میں ایک ملکی مسلمان متنفس بھی نظر نہیں آتا۔عربی زبان کے آثار باقی ہیں۔عربوں کی مخلوط نسل کے وہ لوگ بھی کافی مقدار میں موجود ہیں جنہیں بعد میں جبر عیسائی بنالیا گیا۔عرب عمارتوں اور عربوں کی بنائی ہوئی نہروں اور ریلوں اور باغات کے نشان بھی نظر آتے ہیں مگر نہیں نظر آتا تو اللہ کا مسلمان بندہ اور نہیں نظر آتا تو محمد ( صلعم ) کا نام لیوا اور یہ وہ ملک ہے جس کا چپہ چپہ خدائے واحد کے نام سے صدیوں تک گونجتا رہا ہے اور جس کے غالباً ہر شہر اور ہر قصبہ کی زمین محمد رسول اللہ کے غلاموں کے سجدوں سے مزین ہوئی ہے۔سپین کے علاوہ جس جس ملک میں بھی مسلمانوں کو دھکا لگا وہاں بہر حال کسی نہ کسی صورت میں اسلام باقی رہ گیا۔بغداد مٹا تو پھر بھی اس کی آبادی بدستور اسلام کی حلقہ بگوش رہی۔بلغاریہ اور البانیہ سے مسلمان پیچھے ہے تو پھر بھی ان ملکوں میں اسلام کے نام لیواؤں کا ایک حصہ باقی رہا۔ہندوستان میں مغلوں کی