مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1016 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1016

مضامین بشیر 1+17 کے تصور سے بھی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔الحمد للہ یہاں کی جماعت کو خدا تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔گو بعض مکانات کو نقصان پہنچا ہے لیکن جانیں خدا کے فضل سے محفوظ رہیں۔ضلع کے دیہات تو ہزاروں کی تعداد میں صفحہ ہستی سے نا پید ہو گئے۔لوگوں نے تین تین چار چار دن درختوں کے اوپر چڑھ کر بسر کئے۔ان میں اکثر سردی اور تکان اور بھوک کی وجہ سے نیچے گر کر طوفان کی نذر ہو جاتے رہے۔ایک شخص نے بندے کو بتایا کہ اس کے بوڑھے والدین شدت سردی اور تکان کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے سامنے درخت سے نیچے گرے اور سیلاب میں بہہ گئے۔ایک حاملہ عورت کے وضع حمل کا وقت درخت کے اوپر ہی آ گیا۔اور وہ بیچاری اس حالت میں اس تکلیف کو برداشت نہ کر سکی اور درخت سے نیچے گر کر سیلاب کی نذر ہو گئی۔66 بظاہر یہ ایک محدود رقبہ کے انفرادی واقعات ہیں مگر ان سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ زائد از نصف پنجاب کے طول وعرض میں تباہ حال لوگوں پر کیا کچھ گزری ہو گی۔ہر شریف انسان کا دل اس قسم کے واقعات کا حال سن کر پگھلنے لگتا ہے اور اس کی آنکھوں کے سامنے ان گذشتہ نبیوں کا زمانہ آ جاتا ہے جن کی قومیں ان کے انکار کی وجہ سے خدائی عذاب کا نشانہ بنیں۔حضرت نوح اور ھود اور صالح اور لوط کی قوموں پر جو تبا ہی آئی وہ تاریخ کا ایک کھلا ہو اور ق ہے جسے قرآن شریف نے بھی لوگوں کے انذار کے لئے پیش کیا۔اسی قسم کی تباہی کا نمونہ گزشتہ سیلاب میں نظر آتا ہے اور اس سیلاب پر ہی حصر نہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ آجکل ساری دنیا مختلف قسم کے عذابوں کا نشانہ بن رہی ہے۔ایسے غیر معمولی حادثات میں لوگوں پر دہرا فرض عائد ہوتا ہے۔(۱) پہلی دراصل بات یہ ہے کہ وہ اپنی حالت میں اصلاح پیدا کر کے خدا کے ساتھ صلح کرنے کی کوشش کریں اور (۲) دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ مصیبت سے وقتی طور پر محفوظ رہے ہیں وہ اس مصیبت میں مبتلا ہونے والے لوگوں کی کھلے دل سے امداد کریں اور یہ امداد دو طرح کی ہونی چاہئیے۔ایک تو اپنے قریب کے ماحول میں مصیبت زدہ لوگوں کی براہ راست مدد کی جائے اور دوسرے ان چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے جن کی حکومت کی طرف سے یا بعض دوسری تنظیموں کی طرف سے تحریک کی گئی ہے۔یہ فرض ہماری جماعت پر خصوصیت سے عائد ہوتا ہے۔چنانچہ اس وقت تک سلسلہ کی طرف سے گورنر صاحب پنجاب کے امدادی فنڈ میں تین ہزار روپے کی رقم دی جا چکی ہے اور متفرق افراد سلسلہ