مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1006 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1006

مضامین بشیر 1004 اگر آر یہ صاحبان کو یہ شبہ ہے کہ ہم نے اسے خود سازش کر کے قتل کرا دیا ہے تو وہ مرد میدان بن کرفتم کھا جائیں کہ واقعی ہم نے ہی اسے قتل کرایا ہے اور اس صورت میں ایسی قسم کھانے والے (خواہ وہ تعداد میں کتنے ہی ہوں) ایک سال کے اندر اندر ایسے آسمانی عذاب سے ہلاک ہوں گے جس میں کسی انسانی ہاتھ کا دخل متصور نہ ہو سکے اور حضور نے چیلنج کے طور پر بار بارلکھا کہ اس صورت میں یہ ایک تقدیر مبرم ہوگی جو کبھی نہیں ملے گی۔اب ظاہر ہے کہ یہ تقدیر مبرم آریہ صاحبان کے قسم کھانے کے ساتھ مشروط تھی نہ کہ مطلق اور چونکہ انہوں نے مطلوبہ قسم نہیں کھائی اس لئے یہ تقدیر بھی جاری نہیں ہوئی۔اوپر کی بحث سے ظاہر ہے کہ دراصل تقدیر مبرم بھی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک تو وہ حقیقی تقدیر مبرم ہوتی ہے جو بلا شرط بہر حال جاری ہوتی ہے جیسے کہ مثلاً اس دنیا میں انسان کی موت ایک تقدیر مبرم ہے جو کبھی نہیں ملتی یا مثلاً انسان کا اس دنیا میں مرکز پھر واپس نہ آنا ایک تقدیر مبرم ہے جو بہر حال جاری ہوتی ہے یا مثلاً خدا کے رسولوں کا بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہونا ایک تقدیر مبرم ہے ، جسے کوئی چیز بدل نہیں سکتی وغیرہ وغیرہ لیکن دوسری قسم تقدیر مبرم کی وہ ہے جو کسی ظاہر یا باطن شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔مثلاً جب یہ کہا جائے کہ اگر فلاں بات اس اس رنگ میں ہوئی تو لازماً اس کا یہ یہ نتیجہ نکلے گا تو یہ بھی ایک پہلو کے لحاظ سے تقدیر مبرم ہی ہوگی کیونکہ بیان کردہ شرط کے پورا ہونے کی صورت میں لازماً بیان کردہ نتیجہ پیدا ہوگا گویا اس صورت میں ایسی تقدیر مجموعی لحاظ سے تو تقدیر معلق ہوتی ہے لیکن اپنے متقابل پہلوؤں کے لحاظ سے یہی تقدیر جدا گانہ پہلو میں جا کر تقدیر مبرم بن جاتی ہے۔چنانچہ حدیث میں جو بعض قسم کی تقدیر مبرم کے ٹل جانے کا ذکر آتا ہے اس سے بھی اسی قسم کی تقدیر مبرم ہی مراد ہے جو اپنے جدا گانہ پہلوؤں کے لحاظ سے تقدیر مبرم ہوتی مگر مجموعی لحاظ سے تقدیر معلق قرار پاتی ہے۔مثلاً آنحضرت علی فرماتے ہیں کہ : ہے۔اکثر وا من الدعاء فان الدعا يرد القضاء المبرم ۱۴۰ د یعنی اے مسلمانو ! دعاؤں کی بہت عادت ڈالو کیونکہ دعا وہ چیز ہے جو مبرم تقدیر کو بھی بدل دیتی اب ظاہر ہے کہ اس جگہ وہ حقیقی تقدیر مبرم ہرگز مراد نہیں جو ہر حال میں ایک اٹل تقدیر کے طور پر جاری ہوتی ہے اور کسی صورت بھی اپنا رستہ نہیں بدلتی جیسے کہ مثلاً موت یا عدم رجوع موتی یا غلبہ رسل وغیرہ قانون ہے بلکہ اس جگہ وہ تقدیر مبرم مراد ہے جو مجموعی لحاظ سے تو تقدیر معلق ہوتی ہے مگر اپنے جدا گانہ پہلوؤں کے لحاظ سے ایسے تقدیر مبرم کا نام دیدیا جاتا ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ایسی تقدیر مبرم جو دراصل ایک مشروط قسم کی تقدیر ہوتی ہے۔دعا اور صدقہ اور خیرات سے ٹل جاتی ہے۔اس کی