مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1005 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1005

۱۰۰۵ مضامین بشیر دو پہلو رکھتی تھی۔ایک پہلو رحمت کے نشان کا حامل تھا اور دوسرا پہلو عذاب کے نشان کا علم بردار تھا۔رحمت کا نشان اس صورت میں ظاہر ہونا مقدر تھا کہ محمدی بیگم کے رشتہ دار ( یعنی والدین اور ماموں وغیرہ ) اس کی شادی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کر دیں اور عذاب کا نشان اس شرط کے ساتھ مشروط تھا کہ وہ اس شادی سے منکر ہو کر محمدی بیگم کو کسی اور شخص کے نکاح میں دیدیں۔آگے اس پہلو کی بھی دو شاخیں تھیں ایک شاخ تو یہ تھی کہ اگر محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کو کسی دوسری جگہ بیاہ دے تو وہ ( یعنی محمدی بیگم کا والد ) تین سال کے اندر اندر ہلاک ہو کر اس جہان سے رخصت ہو جائے گا اور دوسری شاخ یہ تھی کہ جس دوسرے شخص کے ساتھ محمدی بیگم بیا ہی جائے گی وہ اگر تو بہ کے رنگ میں رجوع نہیں کرے گا تو اڑھائی سال کے اندر اندر فوت ہو جائے گا اور اس صورت میں ( یعنی اس شخص کی ہلاکت کی صورت میں ) محمدی بیگم بیوہ ہو کر حضرت مسیح موعود کے نکاح میں آئے گی۔یہ وہ صورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں اور تحریروں سے اس پیشگوئی کی ثابت ہوتی ہے اور یہ نتیجہ جس کا خلاصہ میں نے اوپر درج کیا ہے ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ جو شخص بھی انصاف کی نظر سے اس پیشگوئی کے متعلق غور کرے گا وہ اس نتیجہ کے سوا کسی اور نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا مگر ظاہر ہے کہ اس جگہ میرے لئے اس لمبی بات میں جانے کا زیادہ موقع نہیں ہے۔اس تمہیدی نوٹ کے سمجھ لینے کے بعد جاننا چاہئے کہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محمدی بیگم والی پیشگوئی کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے وہاں اس سے ہرگز ہرگز مطلق نکاح مراد نہیں ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ اگر مرزا سلطان محمد بیگ ( خاوند محمدی بیگم ) نے تو بہ اور رجوع کا رستہ اختیار نہ کیا اور شوخی اور گستاخی اور استہزا کے رستہ پر گامزن ہوا تو اس صورت میں نہ کہ کسی اور صورت میں ) اولاً اس کی ہلاکت اور بعدہ محمدی بیگم کا حضرت مسیح موعود کے نکاح میں آنا ایک تقدیر مبرم ہے جو کبھی نہیں ملے گی۔گویا مطلق طور پر نکاح کو تقدیر مبرم قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ صرف مرزا سلطان محمد بیگ کی شوخی اور ہلاکت کی صورت میں تقدیر مبرم قرار دیا گیا تھا لیکن جیسا کہ ظاہر ہے اور ہماری طرف سے بار بار ثابت کیا جا چکا ہے ، جب محمدی بیگم کا والد مقررہ میعاد کے اندراندر فوت ہو گیا اور محمدی بیگم کے خاوند مرزا سلطان محمد بیگ نے فروتنی اور ادب اور تو بہ کا رستہ اختیار کیا تو اذا فات الشرط فات المشروط کے مسلمہ اصول کے ماتحت محمدی بیگم کا نکاح بھی تقدیر مبرم نہ رہا اور یہ وہ حقیقت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بھی حقیقۃ الوحی میں وضاحت کے ساتھ بیان فرما دی۔یعنی یہ کہ اس پیشگوئی کا نکاح والا پہلو منسوخ ہو چکا ہے۔دراصل غور کیا جائے تو محمدی بیگم کی پیشگوئی بالکل اسی قسم کی تقدیر مبرم تھی جس طرح کہ مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے پنڈت لیکھرام کے مرنے پر یہ اعلان کیا تھا کہ