مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 995 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 995

۹۹۵ مضامین بشیر عورتوں کا طبقہ آئے گا اور سب سے آخر میں شہری عورتوں کا طبقہ شمار ہوگا اور آگے ان مختلف طبقات میں بھی بعض ما تحت شاخیں بن جائیں گی اور دراصل قرآن شریف نے اس آیت کے الفاظ کو اسی لئے مجمل اور جامع رکھا ہے کہ تا مختلف حالات میں اس کی مختلف تشریح کی جا سکے۔اسی اصول کے ماتحت بیمار عورتوں کا سوال بھی آتا ہے جو حسب ضرورت اپنے جسم کے ستر والے حصے بھی ( مثلاً چہرہ اور پیٹ وغیرہ) ڈاکٹر کو دکھا سکتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ وسعت ایک تندرست عورت کے متعلق ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی۔اس نوٹ کے تعلق میں یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ یہ جو بخاری کی حدیث میں جلباب (یعنی چادر ) کا ذکر آتا ہے۔اس سے زینت والی اوڑھنی یا دوپٹہ مراد نہیں بلکہ وہ سادہ چادر مراد ہے جو زینت والے لباس کے اوپر پردہ کی غرض سے لی جاتی ہے اور دراصل برقعہ بھی حقیقہ جلباب ہی کی ایک قسم ہے مگر ظاہر ہے کہ موجودہ برقعہ اسلامی پردہ کا لازمی حصہ نہیں ہے بلکہ جو چیز بھی زینت والے لباس کے اوپر جسم اور لباس کی زینت کو چھپانے کی غرض سے اوڑھی جائے وہ جلباب کے مفہوم میں شامل ہے خواہ وہ چادر ہو جیسا کہ شریف دیہاتی عورتوں میں رواج ہے یا برقعہ ہو جیسا کہ شہری عورتیں استعمال کرتی ہیں۔یا کوئی اور چیز ہو جو پردہ کی غرض سے جلباب کے مفہوم میں شامل سمجھی جاسکے اور اگر آج کل کے موجودہ برقعہ سے کوئی بہتر برقعہ ایجاد ہو سکے۔جو ایک طرف اسلامی پردہ کی غرض وغایت کو پورا کر دے اور دوسری طرف عورت کی صحت اور چلنے پھرنے کی سہولت کے لئے زیادہ مفید ہو تو یقیناً اس کا استعمال بھی بالکل جائز ہوگا بلکہ یہ ایک نہایت مفید ایجاد ہوگی جو یقیناً بہت قابل تعریف اور قابل قدر سمجھی جائے گی لیکن ایک بات یقینی ہے کہ خواہ جلباب کی کوئی صورت ہو۔بہر حال اسے خود زینت کا موجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جو چیز زینت کو چھپانے کے لئے مقرر کی گئی ہے۔اسے کو زینت کا باعث بنا لینا یقینا پردہ کے احکام کو عملاً باطل کر دینے کے مترادف ہے۔اسی اصول کے ماتحت پھول دار کپڑے یا شوخ رنگ کے جاذب نظر کپڑے کا برقعہ جس کی طرف آج کل بعض حلقوں میں میلان پیدا ہو رہا ہے ہرگز جائز نہیں سمجھا جا سکتا۔بالآخر یہ اشارہ کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی پردہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورتوں کو قیدیوں کی طرح گھروں کی چار دیواری میں بند کر دیا جائے کیونکہ جس طرح آج کل کی بے پردگی ایک طرف کی نا واجب انتہا ء اور اسلام کے خلاف ہے۔اسی طرح آج سے کچھ عرصہ پہلے کا سخت پردہ بھی دوسری طرف کی ناواجب انتہا تھا۔صحیح اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اگر ایک طرف اسلام پردہ کا حکم دیتا ہے اور مردوں اور عورتوں کے نا واجب اختلاط کو روکتا ہے تو دوسری طرف وہ عورتوں کو صحت کی درستی اور کام کی