مضامین بشیر (جلد 2) — Page 994
مضامین بشیر ۹۹۴ رض جسم ڈھانک کر پھرنے والی عورتوں کے متعلق پردہ کا حکم لازماً چہرہ کے متعلق ہی سمجھا جائے گا کیونکہ اگر یہ نہیں تو پردہ کا حکم ایک بالکل بے معنی چیز قرار پاتا ہے۔بے شک ایک آزاد خیال شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ پردہ کا حکم غیر معقول ہے اور میں اسے نہیں مانتا۔مگر اسلامی پردہ کو مان کر پھر سارے چہرہ کو مستقلی سمجھنا ایک مجنونانہ خیال سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔علاوہ ازیں جب صحیح بخاری کی حدیث میں حضرت عائشہ یقینی اور قطعی الفاظ میں یہ فرماتی ہیں کہ میں نے صفوان کو دیکھتے ہی اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانک لیا تو اس بات میں قطعاً کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ چہرہ اسلامی پردہ کا ضروری حصہ ہے اور جو شخص چہرہ کو پردہ سے مستقلی قرار دیتا ہے وہ دراصل موجودہ زمانہ کی آزادی کی رو سے متاثر ہو کر اسلامی تعلیم سے کھیلنا چاہتا ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن شریف کے بعد اسلام کی صحیح ترین کتاب بخاری اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پردہ کے احکام کا بہترین علم رکھنے والی ہستی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں بیان کرتی ہیں کہ : (۱) صفوان نے اس لئے حضرت عائشہ کو شناخت کر لیا کہ وہ پردہ کے احکام نازل ہونے سے پہلے انہیں دیکھ چکا تھا۔(۲) حضرت عائشہ نے صفوان کو دیکھتے ہی اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانک لیا۔ان دونو ہاتوں سے جو مضبوط ترین شہادت سے ثابت ہیں اس کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں نکلتا کہ: (الف اسلامی پردہ ( جو بھی اس کی تفصیل سمجھی جائے ) بہر حال عدم شناخت کا موجب ہے جس پر عمل کرتے ہوئے کوئی عورت شناخت نہیں کی جاسکتی اور (ب) چہرہ (جو عورت کی بہترین زینت ہونے کی وجہ سے اخفائے زینت کے حکم کا سب سے اہم حصہ ہے ) اسلامی پردہ کے احکام میں شامل ہے اور ہر دیندار عورت کا فرض ہے کہ غیر محرم مردوں کے سامنے جاتے ہوئے اپنا چہرہ ڈھانک کر رکھے۔( ج ) البتہ قرآنی آیت إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَال کے ماتحت چہرہ کا ایک جزو یعنی رستہ دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سانس لینے کے لئے ناک یا منہ کا دہانہ بے شک حسب ضرورت کھلے رکھے جا سکتے ہیں اور اگر نیت بخیر ہو تو اس میں شریعت کو ہر گز کوئی اعتراض نہیں۔قرآنی آیت إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا یعنی زینت کا وہ حصہ جو مجبوراً ظاہر کرنا پڑے ) کے متعلق یہ بات بھی قابل تشریح ہے کہ عورتوں کے مختلف طبقات کے لحاظ سے بھی اس کے معنی مختلف ہو جائیں گے۔کام کاج والی عورتوں کے متعلق اس آیت کا مفہوم طبعاً کسی قدر وسیع لیا جائے گا اور اس کے بعد دیہاتی