مضامین بشیر (جلد 2) — Page 972
مضامین بشیر ۹۷۲۔بھلائی اور برائی کا رستہ بتاتے ہیں اس کے سوا کسی اور شخص کو یہ حق یا اختیار حاصل نہیں کہ وہ خدائی تقدیر کا مالک و متصرف بن کر اس قسم کا دعوی کرے کہ اگر یوں کرو گے تو یہ ہو گا اور اگر یوں نہ کرو گے تو وہ ہو گا۔بے شک ایک عالم دین یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ اگر خدا کی خاطر نماز روزہ ادا کرو گے تو روحانی رنگ میں یہ یہ فائدہ ہوگا اور اگر ان اعمال کی طرف سے سستی اور غفلت بر تو گے تو روحانیت کو نقصان پہنچے گا اور اسی طرح ایک عالم اقتصادیات یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ اگر اپنے کاروبار میں دیانت و محنت کے ان ان اصولوں کی پابندی اختیار کرو گے تو فائدہ ہوگا اور اگر ان کی طرف سے غفلت برتو گے تو نقصان ہو گا۔کیونکہ یہ دونوں باتیں ہمارے خدا کی بتائی ہوئی تقدیر ( خواہ وہ شریعت کی تقدیر ہے یا قضاء وقدر کی ) کا حصہ ہیں لیکن اس کے سوا کسی شخص کو یونہی استبدادی رنگ میں اپنے من گھڑت اصول کے ماتحت یہ دعوی کرنے کا اختیار نہیں کہ اس رستہ پر چلنے سے فائدہ ہوگا اور اس رستہ پر چلنے سے نقصان ہوگا بلکہ حق یہ ہے کہ ایسے لوگ اس قرآنی وعید کے ماتحت آتے ہیں کہ قُتِلَ الْخَرْصُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ " یعنی ان اٹکل باز لوگوں کے لئے تباہی اور بربادی ہے جو جہالت کی غشیوں میں مبتلا ہو کر بھولے پھرتے ہیں“ (۲) دوسری دلیل اس طریق کے باطل ہونے کی اس کی مخصوص راز داری ہے۔اگر یہ واقعی ایک نیکی کی بات ہے جس کا اختیار کرنا فائدہ کا موجب اور اس کا ترک کرنا نقصان کا باعث ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایسے لوگ اپنا نام ظاہر کر کے کھیلیے میدان میں نہیں آتے ؟ کیا آج تک دنیا میں کوئی رسول یا مصلح ایسا بھی گزرا ہے کہ وہ خود تو برقعہ پہن کر پیچھے بیٹھ گیا ہو اور گمنام اعلانوں کے ذریعہ لوگوں کے نام بشارت اور انذار کے پیغامات جاری کرتا رہے۔پس کمیونزم کے فولادی پردہ (آمین کرٹین ) کی طرح دراصل یہ راز داری ہی اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔و (۳) اس طریق میں مال کا نا واجب ضیاع بھی ہے کہ جو بات ایک اخباری اعلان کے ذریعہ بڑی آسانی کے ساتھ بغیر کسی خرچ کے ہزاروں لوگوں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔وہ خطوں اور پوسٹ کارڈوں کے ذریعہ سینکڑوں روپیہ خرچ کر کے پہنچائی جاتی ہے۔اور اس راز داری کے چکر میں بسا اوقات ایک شخص کو ہی کئی کئی خط پہنچ جاتے ہیں۔(۴) اس کے نتیجہ میں تو ہم پرستی بھی پیدا ہوتی ہے اور نیک و بد کاموں کی عقلی بنیاد کی بجائے وہم کا مرض ترقی کرتا اور خیالی امیدوں اور خیالی اندیشوں کا چکر قائم ہو کر انسانی دماغ کے اردگرد ایک جوئے کا سا ماحول پیدا کر دیتا ہے۔(۵) یہ طریق عملاً بھی باطل ثابت ہوتا ہے مثلاً مجھے ایسے خطوط کئی دفعہ پہنچے ہیں اور میں نے