مضامین بشیر (جلد 2) — Page 958
مضامین بشیر ۹۵۸ لوگوں کو مسلمان تو بنا لیا ہے مگر خدا کے ترازو میں اس کی تبلیغی جد و جہد پوری نہیں اترتی تو با وجود اس ظاہری کامیابی کے وہ خدا کی نظر میں کبھی ایک کامیاب مبلغ نہیں سمجھا جائے گا اور اسے اپنے حساب کے لئے تیار رہنا چاہیئے لیکن اس بنیادی اصول کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں سب سے زیادہ لوگوں کا حق قبول کرنا اور پھر آپ کا انی مکاثر بکم الامم فرمانا ظاہر کرتا ہے کہ گو اصولاً ماننے والوں کی تعداد ، کامیابی کا حقیقی معیار نہیں بلکہ اصل معیار خدا کے رستے میں کوشش اور جد و جہد ہے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ سچی کوشش کرنے والوں کی کوشش کو ہرگز ضائع نہیں کرتا اور کسی نہ کسی رنگ میں انہیں ضرور ان کی محنت کا پھل عطا کر دیتا ہے۔یہ تو سوال زیر بحث کا ایک اصولی جواب تھا لیکن موجودہ زمانہ میں جو کہ مادیت کے غیر معمولی زور اور عالمگیر انتشار کا زمانہ ہے۔ایک خاص بات اور بھی یاد رکھنی چاہئیے اور وہ یہ کہ اس زمانہ میں ہے دراصل ہمیں افراد کے خیالات کا مقابلہ در پیش نہیں بلکہ باطل نظاموں کا مقابلہ در پیش اور نظاموں کے مقابلہ میں لڑائی کا طریق بدل جایا کرتا ہے۔جہاں افراد کے خیالات کا مقابلہ ہو وہاں مبلغ کی جد و جہد کی پہلی زد افراد پر پڑتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک ایک دو دو کر کے سعید روحیں صداقت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونی شروع ہو جاتی ہیں حتی کہ آہستہ آہستہ ان ایک ایک دو دو کے ملنے سے ایک بھاری جماعت بن جاتی ہے مگر جہاں اصل مقابلہ باطل نظام کے ساتھ ہو وہاں صداقت کی پہلی چوٹ کسی فرد پر نہیں پڑتی بلکہ نظام کے سواد یعنی ہیئت مجموعی پر پڑتی ہے جس کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ اس ہیئت مجموعی میں تنزل اور تشخط کے آثار شروع ہو جاتے ہیں اور گو بظاہر شروع شروع میں افراد اپنی جگہ پر قائم نظر آتے ہیں مگر نظام باطل کے محل کے کنگرے آہستہ آہستہ ٹوٹ کر گرنے شروع ہو جاتے ہیں۔پس اس زمانہ میں یورپ اور امریکہ کی تبلیغ کا بھی زیادہ تر یہی حال ہے کہ شروع شروع میں وہاں بھی اسلام کی ترقی نو مسلم افراد کی کثرت کے ذریعہ نہیں ہوگی بلکہ مادیت کے نظام باطل کے آہستہ آہستہ ٹوٹنے اور شکستہ ہو ہو کر گرنے کی صورت میں ہوگی اور اس کے بعد افراد کے داخلہ کا حقیقی وقت آئے گا۔گویا جہاں گذشتہ زمانوں میں زیادہ تر افراد کے ذریعہ صداقت ترقی کرتی تھی وہاں موجودہ زمانہ میں اولاً آہستہ آہستہ صرف ایک عام فضا مادیت کے خلاف اور اسلام کے حق میں پیدا ہونی شروع ہوگی اور اس کے بعد اس عام فضا کی تبدیلی کے نتیجہ میں حق ترقی کرے گا اور بالآخر افراد کے پلٹا کھانے کا وقت آجائے گا۔پس کم از کم میرے نزدیک یورپ و امریکہ کے موجودہ مبلغوں کے کام کا معیار نو مسلموں کی تعداد نہیں ( گو کسی حد تک اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ) بلکہ ان کے کام کا اصل معیار یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے میدان میں مسیحیت یا مادیت کے خلاف اور اسلام کے حق ا