مضامین بشیر (جلد 2) — Page 957
۹۵۷ مضامین بشیر جاسکتا۔یہ اصول اتنا پختہ اور اتنا یقینی ہے کہ قرآن شریف افضل الرسل سید ولد آدم خاتم النبیین صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ : ۱۰۵ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ البَلغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ BO د یعنی اے رسول تیری ذمہ داری اس بات پر ختم ہو جاتی ہے کہ تو لوگوں تک خدا کا پیغام پوری طرح پہنچا دے۔پھر آگے انکار کرنے والوں سے ان کے انکار کا 66 حساب لینا ہمارا کام ہے۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ : إنَّا اَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ، وَلَا تُسْتَل عَنْ أَصْحُبِ الْجَحِيمِ BO د یعنی اے رسول ہم نے تجھے حق اور صداقت کے پیغام کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔پس تو اپنا پیغام لوگوں تک پہنچا دے۔پھر جو لوگ اس پیغام کو رڈ کر کے خود دوزخ 66 کا رستہ اختیار کریں ان کے متعلق تیری کوئی ذمہ داری نہیں سمجھی جائے گی۔“ ان اصولی آیات میں قرآن شریف نے دوٹوک فیصلہ فرما دیا ہے کہ اگر خدا کا ایک رسول ( یا اس کی اتباع میں ایک مبلغ ) خدا کے پیغام کو کھول کھول کر پہنچا دے اور تبلیغ کی تمام ضروری شرطوں کوملحوظ رکھے تو بس اس کی ذمہ داری ختم ہوگئی اور لوگوں کے ماننے یا نہ ماننے کے متعلق اس سے سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ اس معاملہ میں خدا انکار کرنے والوں سے پوچھے گا کہ تم نے میرے پیغام کو کیوں رڈ کیا اور جنت کا رستہ چھوڑ کر جہنم کے رستہ پر کیوں پڑ گئے اور عَلَيْنَا الْحِسَابُ کے الفاظ میں یہ خفی اشارہ بھی ہے کہ جہاں خدا انکار کرنے والوں سے حساب لے گا وہاں وہ دوسری طرف خود رسولوں سے بھی حساب لے گا کہ کیا انہوں نے پیغام حق کے پہنچانے میں کسی قسم کی غفلت سے تو کام نہیں لیا ؟ بہر حال ان آیات سے یہ ظاہر ہے کہ ماننے والوں کی تعداد کو خدا تعالیٰ نے کسی نبی کی کامیابی کا معیار نہیں قرار دیا اور لازماً یہی اصول ایک مبلغ کے معاملہ میں بھی چلنا چاہیئے کہ اگر وہ صحیح طریق پر پیغام پہنچا دے اور اس میں کسی قسم کی سستی یا غفلت سے کام نہ لے اور ان تمام شرائط کوملحوظ رکھے جو تبلیغ کے لئے ضروری ہیں تو اس کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے ہاں جس طرح انکار کرنے والوں سے جو خود اپنی مرضی سے دوزخ کا رستہ اختیار کرتے ہیں، انکار کا حساب لیا جائے گا۔اسی طرح مبلغ سے بھی اس بات کا حساب لیا جائے گا کہ کیا اس نے تبلیغ کا حق پوری طرح ادا کیا ہے؟ اگر اس نے یہ حق پوری طرح ادا کر دیا ہے تو خواہ اس کے ہاتھ پر مسلمان ہونے والا ایک شخص بھی نہ ہو وہ یقیناً خدا کی نظر میں ایک کامیاب مبلغ ہے اور کوئی دانا انسان اس کے کام پر نکتہ چینی نہیں کر سکتا لیکن اگر اس کے مقابل پر ایک مبلغ نے چندسو