مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 905 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 905

مضامین بشیر کی غلطی کا مرتکب بھی ہو جائے گا اور اس کے مقابل پر جلالی صفات والا انسان کبھی کبھی اپنے فطری میلان کی وجہ سے نا واجب سخت گیری اور غیر مناسب سزا کی طرف بھی جھک جائے گا اور یہ دونوں قسم کے اعمال یقیناً بڑی حد تک جبر یہ نظریہ کے ماتحت ہوتے ہیں کیونکہ جلال والا انسان فطرتا اپنے جلال میں محصور ہے اور جمال والا انسان اپنے جمال میں مجبور ہے اور ان حالات میں یہ صرف ہمارا علیم و حکیم خدا ہی ہے جو سارے حالات کو دیکھتے ہوئے اور ہر ضروری موجب رعایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حق وانصاف کے تر از وکو قائم رکھے گا۔اس فطری اختلاف سے اولوالعزم نبی تک مستی نہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے یہ قانون جاری فرمایا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور دانت کے بدلے دانت اور ہر زخم کے بدلے میں لازماً بالمقابل زخم پہنچایا جائے اور یہ بھی حضرت موسیٰ ہی تھے جنہوں نے غصہ میں آکر اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ کر اس طرح جھنجھوڑا کہ حضرت ہارون کو شماتت اعداء کا ڈر پیدا ہو گیا۔بے شک غصہ کا موقعہ بجا تھا مگر اس میں بھی کیا شک کہ اس غصہ کے اظہار میں جلال کا رنگ بہت زیادہ غالب تھا لیکن اس کے مقابل پر اسی سلسلہ کے نبی حضرت عیسی تشریف لاتے ہیں تو کس فروشنی سے فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر طمانچہ لگائے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو کہ لو بھئی اس گال پر بھی اپنا غصہ نکال لو۔اگر کوئی شخص تمہارا جبہ چھینے تو اسے اپنی قمیض بھی اتار کر دے دو۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ہر زمانہ کی جدا جدا ضرورتیں تھیں۔میں کہوں گا بے شک درست ہے مگر آخر خدا نے بھی تو ان ضرورتوں کے مطابق ہی طبیعت رکھنے والے اشخاص چنے تو پھر بہر حال بات وہیں آگئی کہ بعض صورتوں میں انسانی فطرتوں کا رجحان اس کے عادات و اخلاق میں ایک حد تک مجبوری کا رنگ پیدا کر دیتا ہے اور اس مجبوری کو دیکھنا اور اس کے مطابق بندوں سے معاملہ کرنا صرف خدا کا کام ہے۔اسی طرح ماحول کا بھی بھاری اثر ہوتا ہے جو بعض صورتوں میں قریباً قریباً مجبوری کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص نیک ماں باپ کے گھر میں پیدا ہوتا ہے اور اسے نیک ماحول اور نیک ہمسائے اور نیک سوسائٹی میسر آتی ہے جس کے نتیجہ میں اس کی بہت سی عادتیں نیکی کے سانچہ میں ڈھل جاتی ہیں لیکن اس کے مقابل پر ایک دوسرا شخص بے دین اور بدا خلاق ماں باپ کے گھر جنم لیتا ہے اور اسے ماحول بھی اچھا میسر نہیں ہوتا اور اس کے نتیجہ میں وہ ایک مشین کی طرح بے دینی اور بے اخلاقی کے چکر میں پڑ جاتا ہے تو کیا مقدم الذکر شخص کی نیکی اور مؤخر الذکر شخص کی بدی کامل آزادی کے اعمال سمجھے جا سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں اسی طرح کئی اور قسم کی مجبوریاں یا نیم مجبوریاں ہیں جن کی عدالت صرف خدا ہی کر سکتا ہے اس کے مقابل پر