مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 868 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 868

مضامین بشیر ۸۶۸ حقیقت ہے کہ شریعت نے اس فیصلہ کو خاوند کی رائے پر چھوڑا ہے نہ کہ امام یا قاضی کی رائے پر۔تو جب ایک معاملہ جائز بھی ہے اور وہ چھوڑا بھی خاوند کی رائے پر گیا ہے تو زید یا بکر یا عمر کو اعتراض کا کیا حق ہو سکتا ہے۔اگر حضرت امام حسن نے کسی وجہ سے (جس کا ہمیں معلوم ہونا ضروری نہیں اور نہ ہمیں اس کی ٹوہ لگانے کی ضرورت ہے ) اپنی بعض بیویوں کو طلاق دی تو یہ معاملہ ان کی ذات سے تعلق رکھتا تھا اور ہمیں اس بحث میں جانے کا کوئی حق نہیں کہ ان طلاقوں میں غرض کیا تھی اور پھر اس بات کا بھی ہرگز کوئی ثبوت نہیں کہ انہوں نے یہ طلاقیں نعوذ باللہ تقویٰ کے ماتحت نہیں دی تھیں بلکہ بعض روایتوں میں تو اس بات کا صریح اشارہ ملتا ہے کہ حضرت امام حسن کی غرض دینی تھی نہ کہ دنیوی۔چنا نچہ ابن سعد کی ایک روایت ہے کہ :- رض كان الحسن مطلاقا للنساء و كان لا يفارق امراة الا و هى تحبه ۱۳۵ رض د یعنی امام حسن نے بے شک بہت سی بیویوں کو طلاق دی مگر انہوں نے کبھی کسی بیوی کو ایسی حالت میں طلاق نہیں دی کہ وہ انہیں محبت کی نظر سے نہ دیکھتی ہو۔“ اس روایت میں یہ صاف اشارہ پایا جاتا ہے کہ حضرت امام حسن“ کا سلوک اپنی بیویوں کے ساتھ ایسا مومنانہ اور مشفقانہ تھا کہ وہ انہیں بہر حال محبت کی نظر سے دیکھتی تھیں اور جب صورت حال یہ ہے تو لازماً ان کی طلاقوں میں نفسانی جوش یا نفرت کا جذبہ کارفرما ہیں سمجھا جا سکتا اور جب یہ نہیں تو ہمیں امام حسن کے ایک ذاتی اور نجی فعل میں جستجو کرنے اور ٹوہ لگانے کا کوئی حق نہیں۔دراصل دنیا میں اکثر فتنے اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ انسان دوسروں کے ذاتی اور جائز اعمال میں ناواجب دخل دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اس نے یہ کام کیوں کیا اور وہ کام کیوں نہیں کیا ؟ ہمارے لئے صرف اس قدر کافی ہے کہ شریعتِ اسلامی طلاق کی اجازت دیتی ہے اور نہ صرف اجازت دیتی ہے بلکہ اس کا فیصلہ خاوند کی ذاتی رائے پر چھوڑتی ہے جس میں کسی دوسرے کا دخل نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایک بزرگ کا ذاتی اور پرائیویٹ معاملہ جس میں وہ شریعت کی رو سے بالکل صاحب اختیار ہے زیر بحث لایا جائے ؟ بے شک اگر شریعت خاوند کو طلاق کی اجازت نہ دیتی یا اس اجازت کو امام یا قاضی اور حج کی منظوری کے ساتھ وابستہ کرتی (جیسا کہ ضلع میں ہے ) تو سوال کرنے والے کو سوال کرنے کا حق ہو سکتا تھا کہ ایسا کیوں کیا گیا لیکن موجودہ صورت میں اعتراض تو در کنار حقیقتا محض سوال کا بھی حق پیدا نہیں ہوتا۔مجھے اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ایک دفعہ حضور نے