مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 866 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 866

مضامین بشیر ۸۶۶ یعنی ” ابوذر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ نبیوں کی تعداد کتنی گزری ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک لاکھ اور میں ہزار نبی گزرے ہیں جن میں سے تین سو پندرہ رسول تھے اور یہ تین سو پندرہ کی تعداد بہت بڑی تعداد ہے۔“ اس جگہ یہ تو بہر حال مراد ہو نہیں سکتا کہ بہت سے نبی ایسے تھے جو رسول نہیں تھے یعنی انہوں نے خدا کی طرف سے کثرت کے ساتھ کلام پایا اور اہم امور غیبیہ سے مشرف بھی ہوئے اور خدا نے ان کا نام نبی بھی رکھا مگر پھر بھی وہ لوگوں کی طرف کوئی خدائی پیغام لے کر نہیں آئے۔ظاہر ہے کہ یہ نظریہ بالبداہت غلط اور نا درست ہے۔پس لا محالہ اس جگہ رسول سے مراد صاحب شریعت رسول لینے ہوں گے اور حدیث کا منشاء یہ سمجھا جائے گا کہ ایک لاکھ بیس ہزار نبیوں میں سے شریعت لانے والے رسول صرف تین سو پندرہ تھے۔گویا اس جگہ رسول کا لفظ مخصوص معنوں میں لیا جائے گا اور یہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین سو پندرہ کی تعداد کے ساتھ جماً غفيرا ( بہت بڑی تعداد ) کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں اور ایک لاکھ بیس ہزار کی تعداد کے ساتھ یہ الفاظ استعمال نہیں کئے۔حالانکہ تعداد یہ زیادہ ہے نہ کہ وہ۔اس میں بھی یہی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ تین سو پندرہ کی تعدا د شریعت لانے والے رسولوں کی ہے اور اس لحاظ سے یہ تعداد واقعی زیادہ ہے کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا کی طرف سے دنیا میں وقتا فوقتا ۳۱۵ نئی شریعتیں پہنچی ہیں اور شریعتوں کے شمار کے لحاظ سے یہ ایک حقیقہ بہت بڑی تعداد ہے۔فھو المراد۔خلاصہ یہ کہ ہر نبی رسول ہوتا ہے اور ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ان میں منصب اور درجہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔صرف جہت کے لحاظ سے فرق ہے۔یعنی اس لحاظ سے کہ وہ خدا سے خبریں پاتا ہے وہ نبی ہوتا ہے اور اس لحاظ سے کہ وہ لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچاتا ہے وہ رسول ہوتا ہے۔پھر بعض نبی اور رسول تو خدا کی طرف سے نئی شریعت لاتے ہیں اور بعض کوئی شریعت نہیں لاتے۔بلکہ صرف سابقہ شریعت کی خدمت کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں۔اس کے مقابل پر محدث نہ تو رسول ہوتا ہے اور نہ نبی بلکہ صرف خدا کے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوتا ہے لیکن نبی کی نسبت درجہ اور کلام کی وسعت میں کمتر۔میں امید کرتا ہوں کہ میرا یہ مختصر نوٹ ہمارے اس دوست کی تسلی کے لئے کافی ہوگا۔و اخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔مطبوع الفضل ورجون ۱۹۵۰ء)