مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 861 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 861

۸۶۱ مضامین بشیر الہام ” داغِ ہجرت کا حوالہ مل گیا غلبت الروم کے الہام کے متعلق ایک لطیف مکاشفہ مجھے مدت سے داغ ہجرت‘ والے الہام کے حوالہ کی تلاش تھی لیکن نہ تو یہ الہام تذکرہ میں درج تھا اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی کتاب یا تحریر وغیرہ میں ملتا تھا۔البتہ زبانی روایتوں میں اس کا کثرت کے ساتھ چر چا تھا اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی ایک یادداشت میں یہ بات لکھ کر بھی رکھی ہوئی تھی کہ یہ الہام حضور کو اپنے دعوئی کے ابتدائی ایام میں ہوا تھا۔بایں ہمہ مجھے اصل حوالہ کی تلاش رہتی تھی۔سواب خدا کے فضل سے ایک ایسا حوالہ مل گیا ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر پر براہ راست مبنی تو نہیں ہے لیکن اپنی معین تاریخ کی وجہ سے اس کے متعلق یقینی قیاس ہوتا ہے کہ یا تو وہ کسی ڈائری میں چھپ چکا ہے اور یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کسی اشتہار میں اس کا ذکر آچکا ہے اور یا کم از کم وہ کسی ایسی قلمی ڈائری میں محفوظ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی قلم بند ہو چکی تھی۔بہر حال مجھے اب ایک دوست نے خط کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز انگریزی بابت ماہ اپریل ۱۹۱۳ء کے صفحہ ۱۵۵ پر یہ الفاظ درج ہیں کہ : احمد ( یعنی حضرت مسیح موعود ) بھی ہجرت کے متعلق خدا کے اس عام قانون سے مستقنے نہیں تھے جو نبیوں کی زندگی میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ ایک الہام جو آپ کو ۱۸ ستمبر ۱۸۹۴ء کو ہوا تھا۔اس میں آپ پر داغ ہجرت کے الفاظ القاء ہوئے تھے۔جس سے پتہ لگتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی کسی دن ہجرت کرنی پڑے گی لیکن یہ بات ہم میں سے کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ ہجرت کس 166 رنگ میں مقدر ہے۔اس حوالہ میں اس الہام کی جو معین تاریخ درج ہے وہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ بہر حال وہ کسی اشتہار یا مطبوعہ ڈائری یا غیر مطبوعہ ڈائری سے لیا گیا ہے اور یہ حوالہ ہے بھی ۱۹۱۳ ء کا جب کہ موجودہ حالات کا کسی کو وہم و گمان بھی نہیں تھا۔