مضامین بشیر (جلد 2) — Page 805
۸۰۵ مضامین بشیر ہے۔اس میں کیا شک ہے کہ اگر لوگ نیک نیتی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اسوہ پر قائم رہتے ہوئے (جس کی طرف اُمہ کے لفظ میں اشارہ ہے ) کوئی اختلاف کریں گے تو لاز ما علم ترقی کرے گا اور دماغوں میں نئی روشنی کے لئے رستے کھلیں گے اور جب نیت بخیر ہوگی تو یا تو تنقید کے نتیجہ میں وہ شخص جس کے کسی نظریہ پر تنقید کی گئی ہے اپنی رائے بدل لے گا اور یا تنقید پر معقول جرح ہونے کے نتیجہ میں تنقید کرنے والا اپنے خیال کی اصلاح کرلے گا اور دونوصورتوں میں برکت ہی برکت ہے۔ان تمہیدی سطور کے بعد میں محترم فاروقی صاحب کے تبصرہ کے مضمون کو لیتا ہوں۔جہانتک میں سمجھ سکا ہوں زائد باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فاروقی صاحب کے تبصرہ کا خلاصہ ان دو باتوں میں آجاتا ہے۔اول یہ کہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی کتاب ”اسلام اور زمین کی ملکیت میں شروع سے لے کر آخر تک اسی بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسلام انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے اور یہ کہ وہ ایک مالک کی زمین کے رقبہ کے متعلق کوئی حد بندی عائد نہیں کرتا۔مگر اس کے مقابل پر غریب زمینداروں اور کاشت کاروں کی غربت کو دور کرنے کے لئے کتاب میں کوئی علاج پیش نہیں کیا گیا۔دوسرے یہ کہ کتاب میں اس دور سے تعلق رکھنے والے حوالے پیش کئے گئے ہیں جبکہ تمدن اور معاشرت کی بالکل ابتدائی حالت تھی لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور نئے حالات کو نئے اصولوں کے ماتحت دیکھنا ہوگا ، وغیرہ ذالک یہ وہ دومحور ہیں جن پر فاروقی صاحب کا سارا تبصرہ چکر لگاتا ہے۔بے شک فاروقی صاحب نے اس کے علاوہ بعض اور باتیں بھی بیان فرمائی ہیں مگر یہ باتیں زیادہ تر ضمنی رنگ رکھتی ہیں اور تبصرہ کا مرکزی نقطہ اوپر کی دوباتوں میں آجاتا ہے۔ان دو باتوں میں سے پہلی بات کے متعلق مجھے یہ کہنا ہے کہ ہر کتاب کا ایک موضوع ہوا کرتا ہے اور اچھے مصنف کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی توجہ کو اپنی کتاب کے موضوع تک محدود رکھے اور بے شک کسی حد تک وہ بعض ضمنی باتوں کی بحث میں داخل ہو سکتا ہے۔مگر یہ صرف ایک اچٹتی ہوئی نظر ہوا کرتی ہے۔ورنہ مصنف ہاں اچھے اور حکیمانہ نظر رکھنے والے مصنف کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے موضوع کے مرکزی نقطہ سے اِدھر اُدھر نہ جائے۔ورنہ یہ ان شاعروں والی بات ہو جائے گی جن کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے کہ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ د یعنی بعض شاعر اپنی جولانی میں کسی میدان کو نہیں چھوڑتے اور ایک ہی قطعہ نظم