مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 793 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 793

۷۹۳ مضامین بشیر کے فتویٰ کے ماتحت جائز قرار پاتا ہے۔ورنہ عام جنگیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں اور ان کے متعلق کسی شرعی فتویٰ کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔پھر جہاد کے متعلق ہمارے دوستوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف نے صرف جہاد بالسیف کی آیت ہی نازل نہیں فرمائی۔بلکہ ہمارے خدا نے دلائل و براہین کے جہاد اور نشانات و معجزات کے جہاد اور نفس کے جہاد کا بھی حکم دیا ہے بلکہ اس قسم کے جہاد کو افضل قرار دیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَجَاهِدُهُمُ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا۔یعنی اے مرد مومن ہم نے تجھے قرآن جیسی کتاب عطا کی ہے اب اسے ہاتھ میں لے کر دلائل و براہین کے بڑے جہاد کے لئے نکل کھڑا ہو۔“ اور ایک موقعہ پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگی غزوہ سے مدینہ کی طرف واپس تشریف لا رہے تھے آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ: رجعنا من الجهاد الاصغر الى الجهاد الاكبر یعنی اے میرے ساتھیو ! اب جنگ سے واپسی پر مدینہ میں سست ہو کر نہ بیٹھ جانا بلکہ اب تو ہم دراصل تلوار کے چھوٹے جہاد سے تبلیغ وعبادت کے بڑے جہاد کی 66 طرف لوٹ رہے ہیں۔“ الغرض اسلام نے ہر قسم کے حالات کے لئے الگ الگ قسم کا جہاد مقرر کیا ہے۔اگر دشمن مسلمانوں کے خلاف اسلام کو مٹانے کی غرض سے تلوار اٹھائے تو تلوار کا جہاد ہے۔اگر وہ عقلی اعتراضوں کے ذریعہ اسلام پر حملہ آور ہو تو دلائل و براہین کا جہاد ہے اگر وہ اسلام کے مقابلہ پر روحانی طاقت کا مظاہرہ کرے تو معجزات ونشانات کا جہاد ہے اور جب دوسری قسم کے جہادوں کے درمیان فرصت کی گھڑی نصیب ہو تو اس وقت نفس کا جہاد ہے یہی وہ لطیف حقیقت تھی جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی قوم کو نہایت دردمندانہ رنگ میں توجہ دلائی۔کاش وہ سمجھتی۔اے کاش وہ سمجھتی ! باقی رہا یہ سوال کہ جہاد بالسیف کے حکم کو شرعی فتویٰ کے ماتحت وقتی طور پر معلق قرار دینے سے بھی مسلمانوں میں بزدلی اور پست ہمتی پیدا ہوتی ہے سو یہ ایک محض فلسفیانہ کھیل ہے۔حقیقی شجاعت ضرورت کے وقت ظالم کے خلاف تلوار اٹھانے میں مخفی ہے نہ کہ ان لوگوں کے خلاف حملہ آور ہونے میں جو دین کے لئے جبر نہیں کرتے بلکہ حق یہ ہے کہ کنٹرول کے وقت میں اپنے آپ پر کنٹرول کرنا ہی بہادری کا مرکزی نقطہ ہے۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ مقدس صحابی جنہوں نے تیرہ سال تک