مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 714 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 714

مضامین بشیر ہوتی ہے۔۷۱۴ مثال کے طور پر وقف زندگی کے نظام کو لیتا ہوں ، ہر ذی علم مسلمان جانتا ہے کہ قرآن شریف نے اس بات کی تحریک فرمائی ہے کہ مسلمانوں کا ایک حصہ دینی کاموں یعنی تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے لئے وقف رہنا چاہے۔چنانچہ فرماتا ہے: وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ 19° د یعنی اے مسلما نو تم میں ایک جماعت ایسی رہنی چاہیے جو اس کام کے لئے وقف رہے کہ وہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے۔اور نیکیوں کی تحریک کرے اور برائیوں سے روکے اور یہ لوگ (خدا تعالیٰ کے فضل سے ) ضرور با مراد ہو نگے۔یہ وہ مبارک آیت ہے جو اسلام میں وقف زندگی کے نظام کی اصل بنیاد ہے ،مگر ظاہر ہے کہ اسلام نے اس تحریک کو ہر مسلمان پر فرض عین کے طور پر واجب نہیں کیا ، بلکہ یہ الفاظ فرما کر کہ تم میں سے ایک پارٹی اس کام کے لئے وقف رہنی چاہئے اسے گویا فرض کفایہ کا رنگ دے دیا ہے۔تو جب یہ تحریک اپنی گونا گوں برکتوں کے باوجود ہر فرد کے لئے واجب قرار نہیں دی گئی۔تو ظاہر ہے کہ اسے اختیار کرنے سے پہلے بھی مسنون استخارہ ہونا ضروری ہے ورنہ ممکن ہے کہ کسی شخص کے موجودہ یا آئندہ ظاہر ہونے والے غیر مناسب حالات کی وجہ سے یہی نیک تحریک اس کے لئے بعد میں ٹھوکر کا موجب بن جائے جیسا کہ بدقسمتی سے بعض واقفین نو جنہوں نے محض وقتی جوش کے ماتحت ایک قدم اٹھا لیا تھا۔اسے اپنے لئے ٹھوکر کا موجب بنا رکھا ہے۔حالانکہ یہ تحریک اپنی ذات میں بہت نیک اور مبارک ہے۔بہر حال اسلام کا منشاء یہ ہے کہ اوامر اور نواہی کو چھوڑ کر ہر اہم امر میں خواہ وہ بظاہر کتنا ہی مفید اور بابرکت نظر آئے استخارہ کرنا چاہئے اور خدا سے خیر طلب کرنے اور برکت چاہنے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیئے اور جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں آنحضرت عمل ہے اس معاملہ میں اتنی تاکید فرماتے تھے کہ راوی بیان کرتا ہے کہ گویا آپ اسے قرآنی سورتوں کی تلقین کا رنگ دے دیتے تھے۔اب رہا یہ سوال کہ استخارہ کا فائدہ کیا ہے؟ سو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے کہ استخارہ کا مسئلہ دراصل دعا کے مسئلہ کی فرع ہے اور جو فوائد دعا میں ہیں۔وہی استخارہ میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔اور مختصر طور پر استخارہ کے فوائد یہ ہیں۔ا۔استخارہ انسان کو جلد بازی سے روکتا ہے یعنی استخارہ کرنے والا انسان وقتی جوش میں