مضامین بشیر (جلد 2) — Page 647
۶۴۷ مضامین بشیر میاں سلطان احمد درویش مرحوم میاں سلطان احمد صاحب درویش قادیان کی وفات کے متعلق الفضل میں یہ خبر شائع کی جا چکی ہے۔اب ان کی بیماری اور وفات کے مزید حالات قادیان سے پہنچے ہیں جو دعا کی تحریک کی غرض سے ذیل میں شائع کئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر بشیر احمد صاحب اور مولوی عبد الرحمن صاحب امیر مقامی اور ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان سے حسب ذیل اطلاع دیتے ہیں۔سلطان احمد مرحوم ولد میاں محمد بخش صاحب جو سکنہ کھاریاں ضلع گجرات کا رہنے والا تھا۔گذشتہ جمعہ کے دن تک بالکل تندرست اور صحیح سالم تھا۔جمعہ کے دن قریباً تین بجے سہ پہر کو سلطان احمد کو سردرد کی شکایت ہوئی جس پر دوائی وغیرہ دی گئی اور وہ چلتا پھرتا رہا۔لیکن ہفتہ کے دن صبح اسے بخار ہو گیا اور دن کے دوران میں چند اجابتیں بھی ہوئیں۔پچھلے پہر بخار زیادہ تیز ہو گیا اور سلطان احمد کو قریباً بیہوشی کی حالت میں قریباً ساڑھے چھ بجے شام کو احمد یہ شفا خانہ میں اٹھا کر لایا گیا۔اس وقت بخار ۱۰۵ درجہ کا تھا۔برف استعمال کی گئی اور ٹیکہ بھی لگایا گیا اور دیگر تمام ذرائع جو میسر آ سکتے تھے استعمال کئے گئے مگر بخار میں کمی نہ ہوئی۔نو بجے شب کے قریب سانس اکھڑنا شروع ہوا اور گیارہ بج کر تیس منٹ پر ۲۷، ۲۸ / اگست کی درمیانی شب کو اس مخلص نوجوان نے داعی اجل کو لبیک کہا۔انالله وانا اليه راجعون۔قادیان کی متفقہ رپورٹ کے مطابق مرحوم نہایت نیک اور مخلص نو جوان تھا۔اس کی عمر قریباً ۲۰ یا ۲۲ سال کی ہو گی۔مرحوم موصی بھی تھا اور مقبرہ بہشتی میں بابا شیر محمد صاحب کی قبر کے ساتھ دفن کیا گیا۔مرحوم ان پچپیس درویشوں میں سے تھا جن کے خلاف اس وقت دفعہ ۱۰۷ کا استغاثہ چل رہا ہے۔دوست دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس مخلص نوجوان کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور اس کے والد اور دوسرے عزیزوں کو صبر جمیل عطا کرے اور دین ودنیا میں حافظ و ناصر ہو۔آمین ( مطبوعه الفضل ۳۱ ر ا گست ۱۹۴۹ء )